عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 53
عائلی مسائل اور ان کا حل یہ دعا ایک ایسی دعا ہے جو نسلوں کے سدھارنے کے بھی <mark>کام</mark> آتی ہے اور اپنی اصلاح کے بھی <mark>کام</mark> آتی ہے اور مرنے کے بعد نیک نسل کی دعاؤں اور اعمال کی وجہ سے درجات کی بلندی کے بھی <mark>کام</mark> آتی ہے اور پھر اس میں مومن کی شان کی طرف بھی اشارہ ملتا ہے کہ مومن چھوٹی چھوٹی باتوں پر راضی نہیں ہوتا بلکہ ترقی کی منازل کی طرف قدم مارتا ہے۔اس کے قدم آگے بڑھتے ہیں۔متقی خود بھی تقویٰ میں بڑھتا ہے اور اپنی نسل کو بھی تقویٰ میں بڑھانے کی کوشش کرتا ہے۔پس خوش قسمت ہیں وہ ماں باپ جو اپنے بچوں کی تربیت کی فکر میں رہتے ہیں۔اُن کو دین کے قریب کرتے ہیں۔اُن میں خدا تعالیٰ کی محبت پیدا کرتے ہیں اور پھر اپنی حالتوں میں ایک پاک تبدیلی پیدا کر کے اپنی دنیا و عاقبت بھی سنوارتے ہیں۔پس اس دعا کو بہت شدت سے اور سمجھ کر پڑھنے کی ہر احمدی عورت اور مرد کو ضرورت ہے۔بہت سے لوگوں کو اولاد سے شکوہ ہوتا ہے کہ اولا د بگڑ گئی۔اگر نیک تربیت اور دعاؤں کی طرف توجہ ہو تو اللہ تعالیٰ پھر فضل فرماتا ہے۔اولاد کو الا ماشاء اللہ بگڑنے سے بچاتا ہے“۔" (جلسه سالانه جرمنی، خطاب از مستورات فرموده 25 جون 2011ء۔مطبوعہ 13 اپریل 2012ء) ای موضوع پر حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنے ایک اور خطبہ میں فرماتے ہیں: یہ جو اللہ تعالیٰ نے دعا سکھائی ہے کہ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إمَامًا (الفرقان:75) تو اولاد کے قرۃ العین ہونے کے لئے ہمیشہ دعا کرتے 53