عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 233
عائلی مسائل اور ان کا حل الوسع رعایت کرنا اور سر سے پیر تک جتنے قوی اور اعضاء ہیں جن میں ظاہری طور پر آنکھیں اور کان اور <mark>ہاتھ</mark> اور پیر اور دوسرے اعضاء ہیں اور باطنی طو پر دل اور دوسری قو تیں اور اخلاق ہیں ان کو جہاں تک طاقت ہو ٹھیک ٹھیک محل ضرورت پر استعمال کرنا اور ناجائز مواضع سے روکنا اور ان کے پوشیدہ حملوں سے متنبہ رہنا اور اسی کے مقابل پر حقوق عباد کا بھی لحاظ رکھنا یہ وہ طریق ہے جو انسان کی تمام روحانی خوبصورتی اس سے وابستہ ہے۔اور خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں تقویٰ کو لباس کے نام سے موسوم کیا ہے۔چنانچہ لِبَاسُ التَّقویٰ قرآن شریف کا لفظ ہے۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ روحانی خوبصورتی اور روحانی زینت تقویٰ سے ہی پیدا ہوتی ہے۔اور تقویٰ یہ ہے کہ انسان خدا کی تمام امانتوں اور ایمانی عہد اور ایسا ہی مخلوق کی تمام امانتوں اور عہد کی حتی الوسع رعایت رکھے۔یعنی ان کے دقیق در دقیق پہلوؤں پر تا بمقدور کار بند ہو جائے“۔( براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد نمبر 21 صفحہ 210-209) پس یہ وہ معیار ہے جو اگر حاصل ہو جائے تو معاشرے کو بہت سے مسائل سے بچالیتا ہے۔یہ وہ معیار ہے جو ہمارے اندر پید اہو جائے تو ہماری دنیا بھی دین بن جاتا ہے۔ہماری ہر خواہش جو بھی ہو گی وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ہو گی۔اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے کی کوئی خواہش ایسی نہیں ہوتی جو صرف دنیا میں پڑے رہنے سے حاصل ہو۔اور یہ تقویٰ اگر حاصل ہو جائے تو پھر معاشرے کی بنیادی اکائی مرد اور عورت ہیں جو 233