700 احکام خداوندی — Page 512
512 کرے کہ وہ لکھے۔پس وہ لکھے جیسا اللہ نے اُسے سکھایا ہے۔اور وہ لکھوائے جس کے ذمہ (دوسرے کا حق ہے، اور اللہ اپنے رب کا تقوی اختیار کرے، اور اس میں سے کچھ بھی کم نہ کرے۔پس اگر وہ جس کے ذمہ (دوسرے کا حق ہے بیوقوف ہو یا کمزور ہو یا استطاعت نہ رکھتا ہو کہ وہ لکھوائے تو اُس کا ولی (اس کی نمائندگی میں ) انصاف سے لکھوائے۔اور اپنے مردوں میں سے دو گواہ ٹھہرالیا کرو۔اور اگر دو میسر نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں (ایسے) گواہوں میں سے جن پر تم راضی ہو۔( یہ ) اس لئے (ہے) کہ ان دو عورتوں میں سے اگر ایک بھول جائے تو دوسری اُسے یاد کروا دے۔اور جب گواہوں کو بلایا جائے تو وہ انکار نہ کریں۔اور لین دین خواہ چھوٹا ہو یا بڑا اُسے اس کی مقررہ میعاد تک (یعنی مکمل معاہدہ) لکھنے سے اکتاؤ نہیں۔تمہارا یہ طرز عمل خدا کے نزدیک بہت منصفانہ ٹھہرے گا اور شہادت کو قائم کرنے کے لئے بہت مضبوط اقدام ہو گا، اور اس بات کے زیادہ قریب ہو گا کہ تم شکوک میں مبتلا نہ ہو۔( لکھنا فرض ہے ) سوائے اس کے کہو : دست بدست تجارت ہو جسے تم (اسی وقت ) آپس میں لے دے لیتے ہو۔اس صورت میں تم پر کوئی گناہ نہیں کہ تم اسے نہ لکھو۔اور جب تم کوئی لمبی خرید و فروخت کرو تو گواہ ٹھہرالیا کرو۔اور لکھنے والے کو اور گواہ کو کسی قسم کی کوئی ) تکلیف نہ پہنچائی جائے۔اگر تم نے ایسا کیا تو یقیناً یہ تمہارے لئے بڑے گناہ کی بات ہوگی۔اور اللہ سے ڈرو جبکہ اللہ ہی تمہیں تعلیم دیتا ہے۔اور اللہ ہی ہر چیز کا خوب علم رکھتا ہے۔اور اگر تم سفر پر ہو اور تمہیں کا تب میسر نہ آئے تو کوئی چیز با قبضہ رہن کے طور پر ہی سہی۔پس اگر تم میں سے کوئی کسی دوسرے کے پاس امانت رکھے تو جس کے پاس امانت رکھوائی گئی ہے اسے چاہئے کہ وہ ضرور اس کی امانت واپس کرے اور اللہ اپنے رب کا تقویٰ اختیار کرے۔اور تم گواہی کو نہ چھپاؤ۔اور جو کوئی بھی اسے چھپائے گا تو یقینا اس کا دل گنہگار ہو جائے گا۔اور اللہ اسے جو تم کرتے ہو خوب جانتا ہے۔(نوٹ: ان آیات میں قرض کے لین دین بارے درج ذیل احکام ملتے ہیں ) (1) 1209 (2) 1210 اے ایمان دارو! جب تم ایک معین مدت تک کے لئے قرض کا لین دین کرو تو اُسے لکھ لیا کرو۔چاہئے کہ تمہارے درمیان لکھنے والا انصاف سے لکھے۔