700 احکام خداوندی — Page 25
25 رکھو نجات وہ چیز نہیں جو مرنے کے بعد ظاہر ہوگی بلکہ حقیقی نجات وہ ہے کہ اسی دینا میں اپنی روشنی دکھلاتی ہے۔کشتی نوح از روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۱۶ ،۱۵) لمفوظات جلد ۴ صفحه ۶۵۶) حمد پس بار بار قرآن شریف کو پڑھو اور تمہیں چاہئے کہ کمرے کاموں کی تفصیل لکھتے جاؤ اور پھر خدا تعالیٰ کے فضل اور تائید سے کوشش کروان بدیوں سے بچتے رہو۔صفات حسنہ اور اخلاق فاضلہ کے دوبی حصے ہیں اور وہی قرآن شریف کی پاک تعلیم کا خلاصہ اور لب لباب ہیں ،اول یہ کہ حق اللہ کے ادا کرنے میں عبادت کرنا فسق و فجور سے بچنا اور کل محرمات الہی سے پر ہیز کرنا اور اوامر کی تعمیل میں کمر بستہ رہنا۔دوم یہ کہ حق العباد ادا کرنے میں کوتاہی نہ کرے اور بنی نوع انسان سے نیکی کرے غرض مومن حقیقی وہی ہے جو حق اللہ اور حق العباد دونو کو پورے التزام اور احتیاط سے بجالا وے۔جود و نو پہلوؤں کو پوری طرح سے مد نظر رکھ کر اعمال بجا لاتا ہے وہی ہے کہ پورے قرآن پر عمل کرتا ہے ورنہ نصف قرآن پر ایمان لاتا ہے۔(لمفوظات جلد ۵ صفحه ۵۷۱) قرآن شریف کی تعلیم پر اسی طرح عمل کرو۔جس طرح رسول اللہ علیہ نے کر کے دکھایا اور صحابہ نے کیا۔قرآن شریف کے صحیح منشاء کو معلوم کرو اور اس پر عمل کرو۔خدا تعالی کے حضور اتنی ہی بات کافی نہیں ہوسکتی کہ زبان سے اقرار کر لیا اور عمل میں کوئی روشنی اور سرگرمی نہ پائی جاوے۔یادرکھو کہ وہ جماعت جو خدا تعالی قائم کرنی چاہتا ہے۔وہ عمل کے بدوں زندہ نہیں رہ سکتی۔جو علمی ترقی چاہتا ہے اس کو چاہئے کہ قرآن شریف کو غور سے پڑھے جہاں سمجھ میں نہ آئے ، دریافت کرے۔اگر بعض معارف سمجھ نہ سکے تو دوسروں سے دریافت کر کے فائدہ پہنچائے۔( الحکم ۷ ار جولائی ۱۹۰۲ء) حمد قرآن شریف ایک دینی سمندر ہے جس کی تہ میں بڑے بڑے نایاب اور بے بہا گو ہر موجود ہیں۔( لمفوظات جلد ۲ صفحه ۲۸۲) ( ملفوظات جلد ۳، صفحه ۱۹۴) قرآن شریف حکمتوں اور معارف کا جامع ہے اور وہ رطب و یابس فضولیات کا کوئی ذخیرہ اپنے اندر نہیں رکھتا۔ہر ایک امر کی تفسیر وہ خود کرتا ہے اور ہر ایک قسم کی ضرورتوں کا سامان اس کے اندر موجود ہے۔وہ ہر ایک پہلو سے نشان اور آیت ہے۔(لمفوظات جلدا، صفحه ۳۴۰) ہ قرآن تمہارا محتاج نہیں تم محتاج ہو کر قرآن کو پڑھو۔سمجھو اور سیکھو جبکہ دنیا کے معمولی کاموں کے واسطے تم استاد پکڑتے ہو تو قرآن شریف کے واسطے استاد کی ضرورت کیوں نہیں۔(الحکم، اراگست ۱۹۰۷ء ) قرآن شریف معارف اور علوم کے مال کا خزانہ ہے خدا تعالیٰ نے قرآنی معارف اور علوم کا نام بھی مال رکھا ہے۔دنیا کی برکتیں بھی اسی کے ساتھ آتی ہیں۔( ملفوظات جلدا، صفحه ۵۳۰) 777