صحیح مسلم (جلد چہارم)

Page 24 of 301

صحیح مسلم (جلد چہارم) — Page 24

صحیح مسلم جلد چهارم 24 24 كتاب الجمعة 1428{47} حَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ :1428: ابو وائل کہتے ہیں کہ حضرت عمار نے حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ ہمیں خطبہ دیا اور مختصر دیا اور بلیغ کلام کیا جب أَبْجَرَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ وَاصِلِ بْنِ حَيَّانَ قَالَ قَالَ وہ (منبر سے ) سے نیچے اترے تو ہم نے کہا أَبُو وَائِلِ خَطَبَنَا عَمَّارٌ فَأَوْجَرَ وَأَبْلَغَ فَلَمَّا اے ابو یقطان ! آپ نے بہت بلیغ کلام کیا ہے نَزَلَ قُلْنَا يَا أَبَا الْيَقْطَان لَقَدْ أَبْلَغْتَ مگر مختصر کیا ہے کیوں نہ آپ نے لمبا کیا۔انہوں وَأَوْجَزْتَ فَلَوْ كُنْتَ تَنَفَّسَتَ فَقَالَ إِنِّي نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ہوئے سنا ہے کہ آدمی کی لمبی نماز اور مختصر خطبہ اس کی يَقُولُ إِنْ طُولَ صَلَاةِ الرَّجُل وَقصَرَ خَطبَته عقلمندی کی نشانی ہے پس نماز بہی کرو اور خطبہ مختصر کرو مَئنَّةٌ مَنْ فِقْهه فَأَطيلُوا الصَّلَاةَ وَاقْصُرُوا اور یقینا بعض بیان تو جادو ہوتے ہیں۔رم الْخُطْبَةَ وَإِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا [2009] 1429{48} حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبي شَيْبَةَ :1429 حضرت عدی بن حاتم سے روایت ہے کہ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعِ خطاب کیا اور کہا کہ جس نے اللہ اور اس کے رسول کی عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ أَنَّ اطاعت کی وہ ہدایت پا گیا اور جو اُن دونوں کی رَجُلًا خَطَبَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نافرمانی کرے گا وہ یقیناً بھٹک گیا۔رسول اللہ ملے وَسَلَّمَ فَقَالَ مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ نے فرمایا تم کتنے برے مقرر ہو کہو کہ جو اللہ کی اور رَشَدَ وَمَنْ يَعْصِهِمَا فَقَدْ غَوَى فَقَالَ رَسُولُ رسول کی نافرمانی کرے گا۔(راوی) ابن نمیر نے اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِئْسَ الْخَطِيبُ غَوَی کی بجائے ) غَوِی کا لفظ استعمال کیا ہے۔أَنتَ قُلْ وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ قَالَ ابْنُ نُمَيْرِ فَقَدْ غَوِيَ [2010] ☆ اس ارشاد میں حضور ﷺ نے تو حید باری کا ایک لطیف سبق دیا ہے کہ مَنْ يَعْصِهِمَا کے الفاظ میں جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کا اکٹھا ذ کر کیا گیا ہے اس کی بجائے اللہ کی اور رسول کی نافرمانی کا الگ الگ ذکر کیا جائے کیونکہ رسول اللہ علیہ کی ہدایت اللہ کی ہدایت ہی ہے۔-