صحیح مسلم (جلد دوم) — Page 212
حیح مسلم جلد دوم 212 كتاب الصلاة 682 (159) و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى پر آپ (حضرت عمر) نے فرمایا کہ اے ابو اسحاق ! مجھے حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ آپ کے متعلق یہی خیال تھا۔عَنْ أَبِي عَوْنِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ :682 حضرت جابر بن سمرہ کہتے ہیں کہ حضرت عمرؓ قَالَ قَالَ عُمَرُ لِسَعْدِ قَدْ شَكَوْكَ فِي كُلِّ نے حضرت سعد سے فرمایا کہ لوگوں نے تمہاری ہر امر شَيْءٍ حَتَّى فِي الصَّلَاةِ قَالَ أَمَّا أَنَا فَأَمُدُّ فِي میں شکایت کی ہے یہانتک کہ نماز کے بارہ میں بھی۔الْأُولَيَيْنِ وَأَحْدَفُ فِي الْأَخْرَيَيْنِ وَمَا آلُو مَا وہ کہنے لگے کہ میں تو پہلی دو رکعتیں لمبی پڑھاتا ہوں اقْتَدَيْتُ بهِ مِنْ صَلَاةِ رَسُول الله صَلَّى الله اور دوسری دو چھوٹی ، اور میں رسول اللہ ﷺ کی نماز کی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ذَاكَ الظَّنُّ بِكَ أَوْ ذَاكَ پیروی میں کوئی کوتاہی نہیں کرتا۔آپ (حضرت عمر) ظَنِّي بِكَ [1018] نے فرمایا کہ آپ کے متعلق یہی خیال تھا یا فرمایا آپ {160} و حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْب حَدَّثَنَا ابْنُ سے متعلق میرا یہی خیال تھا۔بِشَرِ عَنْ مِسْعَرٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلَكَ وَأَبِي عَوْن ابو كريب حضرت جابر بن سمرہ کی روایت ان عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ بِمَعْنَى حَدِيثِهِمْ وَزَادَ (راویوں) کے ہم معنی بیان کرتے اور مزید کہتے ہیں فَقَالَ تُعَلِّمُنِي الْأَعْرَابُ بالصَّلَاةِ [1019] کہ (اب) بذ ولوگ مجھے نماز سکھائیں گے! 683 {161} حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْد حَدَّثَنَا :683 حضرت ابو سعید خدری بیان کرتے ہیں انہوں الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ عَنْ سَعِيدٍ وَهُوَ ابْنُ نے کہا کہ ظہر کی نماز کھڑی ہوتی تو ایک جانے والا عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ عَنْ قَرْعَةَ بقیع کی طرف جاتا اور اپنی حاجت سے فارغ ہوتا پھر عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ لَقَدْ كَانَت وضوء کرتا پھر آتا تو رسول اللہ اللہ ابھی پہلی رکعت صَلَاةُ الظُّهْرِ تَقَامُ فَيَذْهَبُ الذَّاهِبُ إلَى میں ہوتے اس وجہ سے کہ آپ اسے لمبا کرتے۔الْبَقيع فَيَقْضِي حَاجَتَهُ ثُمَّ يَتَوَضَّأُ ثُمَّ يَأْتِي وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى مِمَّا يُطَوِّلُهَا [1020]