براہین احمدیہ حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 173 of 849

براہین احمدیہ حصہ اوّل — Page 173

روحانی خزائن جلد 1 ۱۷۱ براہین احمدیہ حصہ سوم اور پھر آپ ہی بڑ بڑا ئیں کہ اب قومی بشریہ اس چیز کی مثل بنانے سے قاصر اور عاجز ہیں اور اس مجنونا نہ قول کا خلاصہ یہ ہوگا کہ قومی بشریہ ایک چیز کے بنانے پر قادر ہیں بقیه حاشیه نمبـ مبر اسی کتاب میں بخوبی کھول کر لکھی جاوے گی ۔ پھر اس منہ اور اس لیاقت کے ساتھ ربانی الہام سے انکار کرنا اور آپ ہی خدا کا قائم مقام بن بیٹھنا اور حضرات مقدسین انبیاء کو اہل غرض سمجھنا یہ آپ لوگوں کی نیک طینتی ہے۔ اور اس سے دھوکا مت کھانا کہ عقل ایک عمدہ چیز ہے۔ ہم هر یک تحقیق عقل ہی کے ذریعے سے کرتے ہیں ۔ بلاشبہ عمدہ چیز ہے۔ لیکن اس کا جو ہر تب ہی ظاہر ہوتا ہے جب وہ اپنے جوڑ کے ساتھ شامل ہو۔ ورنہ وہ دھوکا دینے میں دشمنوں سے بدتر ہے۔ دورنگی دکھلانے میں منافقوں سے بڑھ کر ہے۔ سو تمہاری بد نصیبی تم اس کے جوڑ کے نام سے بھی چڑتے ہو ۔ دوستو ! خوب سوچو بن جوڑ کسی بات کی بھی گت نہیں ۔ خدا نے جوڑ بھی ایک عجب چیز بنادی ہے۔ جہاں دیکھو جوڑ ہی سے کام نکلتا ہے۔ ہم تم سب آنکھوں ہی سے دیکھتے ہیں۔ پر آفتاب کی بھی ضرورت ہے۔ کانوں ہی سے سنتے ہیں پر ہوا کی بھی حاجت ہے۔ آفتاب چھپا تو بس اندھے بیٹھے رہو ۔ کانوں کو ہوا سے ڈھانک لو تو بس سننے سے چھٹی ہوئی ۔ جس عورت کے خاوند سے کوئی بات ہونے نہ پائے بھلا اُس کا کس بدھ حمل ٹھہرے۔ جس ۱۶۳ زراعت کو پانی چھو بھی نہیں گیا اس کو کیونکر پھل لگے۔ یہ باتیں ایسی نہیں ہیں کہ تمہاری سمجھ سے دور ہوں ۔ یہ وہی قانون قدرت ہے جس پر عمل کرنے کا تم کو دعوئی ہے۔ سواب اس دعوی پر عمل بھی کرو۔ تانرے دکھانے کے ہی دانت نہ رہیں ۔ حاجت نورے بود هر چشم را این چنین افتاد قانون خدا کے چنین چشمے خداوند آفرید چشم بینا بے خور تابان که دید چون تو خود قانون قدرت بشکنی پس چرا بر دیگران سر میزنی آنکه در هر کار شد حاجت روا چون رواداری که نبود رهنما آنکه اسپ و گاو خر را آفرید تا رہد پشت تو از بار شدید