ملفوظات (جلد 9) — Page 251
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۵۱ جلد نهم اس نادر علی شاہ صاحب نے عرض کی کہ خدا تعالیٰ کے عذاب سے بچنے کا گر اے موی پریا کرنا چاہیے؟ ایسے موقع فرمایا۔ تو بہ واستغفار کرنی چاہیے۔ بغیر توبہ استغفار کے انسان کر ہی کیا سکتا ہے۔ سب نبیوں نے یہی کہا ہے کہ اگر تو بہ استغفار کرو گے تو خدا بخش دے گا۔ سونمازیں پڑھو اور آئندہ گناہوں سے بچنے کے لیے خدا تعالیٰ سے مدد چاہو اور پچھلے گناہوں کی معافی مانگو اور بار بار استغفار کرو تا کہ جو قوت گناہ کی انسان کی فطرت میں ہے وہ ظہور میں نہ آوے۔ انسان کی فطرت میں دو طرح کا ملکہ پایا جاتا ہے۔ ایک تو کسب خیرات اور نیک کاموں کے کرنے کی قوت ہے اور دوسرے بڑے کاموں کو کرنے کی قوت ۔ اور ایسی قوت کو روکے رکھنا یہ خدا تعالیٰ کا کام ہے اور یہ قوت انسان کے اندر اس طرح سے ہوتی ہے جس طرح کہ پتھر میں ایک آگ کی قوت ہے۔ استغفار کے معنے اور استغفار کے یہی معنے ہیں کہ ظاہر میں کوئی گناہ سرزد نہ ہواور گناہوں کے کرنے والی قوت ظہور میں نہ آوے۔ انبیاء کے استغفار کی بھی یہی حقیقت ہے کہ وہ ہوتے تو معصوم ہیں مگر وہ استغفار اس واسطے کرتے ہیں کہ تا آئندہ وہ قوت ظہور میں نہ آوے اور عوام کے واسطے استغفار کے دوسرے معنے بھی لیے جاویں گے کہ جو جرائم اور گناہ ہو گئے ہیں ان کے بد نتائج سے خدا بچائے رکھے اور ان گناہوں کو معاف کر دے اور ساتھ ہی آئندہ گناہوں سے محفوظ رکھے ۔ بہر حال یہ انسان کے لیے لازمی امر ہے وہ استغفار میں ہمیشہ مشغول رہے۔ یہ جو قحط اور طرح طرح کی بلائیں دنیا میں نازل ہوتی ہیں ان کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ لوگ استغفار میں مشغول ہو جا ئیں ۔ مگر استغفار کا یہ مطلب نہیں ہے جو اسْتَغْفِرُ اللهَ اسْتَغْفِرُ اللہ کہتے رہیں ۔ اصل میں غیر ملک کی زبان کے سبب لوگوں سے حقیقت چھپی رہی ہے۔ عرب کے لوگ تو ان باتوں کو خوب سمجھتے تھے ۔ مگر ہمارے ملک میں غیر زبان کی وجہ سے بہت سی حقیقتیں مخفی رہی ہیں ۔ بہت سے لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم نے اتنی دفعہ استغفار کیا۔ سو تسبیح یا ہزار تسبیح پڑھی مگر جو استغفار کا مطلب اور معنے پوچھو تو بس کچھ