ملفوظات (جلد 8) — Page 320
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۲۰ جلد هشتم تو اس سے بڑھ کر اور کوئی مراد نہیں ہے۔ جب خدا تعالیٰ سے ایسا قرب اور تعلق ہو کہ اس کا دل اللہ تعالیٰ کا تخت گاہ ہو تو یہ ناممکن ہے کہ یہ اس کے انوار و برکات سے مستفیض نہ ہو اور اس کا کلام نہ سنے ۔ اگر چاہتے ہو کہ اس کا کلام سنو تو اس کا قرب حاصل کرو۔ مگر یہ یاد رکھو کہ اصل مقصود تمہارا یہ نہ ہو۔ ورنہ میرا اپنا یہی مذہب ہے کہ یہ بھی ایک قسم کا شرک ہوگا ۔ کیونکہ خدا کی رضا جوئی اور اس کی محبت کی غرض اصل تو یہ ہوئی کہ الہام ہو یا کشوف ہوں اور پھر بار یک طور پر اس کے ساتھ نفسانی غرض یہ ملی ہوئی ہوتی ہے کہ اس سے ہماری شہرت ہو۔ لوگوں میں ہم ممتاز ہوں ۔ ہماری طرف رجوع ہو۔ یہ باتیں صافی تعلقات میں ایک روک ہو جاتی ہیں اور اکثر اوقات شیطان ایسے وقت پر قابو پا لیتا ہے۔ وہ بار یک نفسانی غرض کو پالیتا ہے۔ پھر نفسانی خواہشیں بھی آنے لگتی ہیں اور اس طرح پر آخر موقع پا کر شیطان ہلاک کر دیتا ہے۔ اس لیے نہایت امن کی راہ یہی ہے کہ انسان اپنی غرض کو صاف کرے اور خالصہ رو بخدا ہو۔ اس کے ساتھ اپنے تعلقات کو صاف کرے اور بڑھائے اور وجہ اللہ کی طرف دوڑے۔ وہی اس کا مقصود اور محبوب ہو اور تقویٰ پر قدم رکھ کر اعمال صالحہ بجالا وے پھر سنت اللہ اپنا کام آپ کرے گی ۔ اس کی نظر نتائج پر نہ ہو ں کی نظر نتائج پر نہ ہو بلکہ نظر تو اسی ایک نقطہ پر ہو ۔ اس حد تک پہنچنے کے لیے اگر یہ شرط ہو کہ وہاں پہنچ کر سب سے زیادہ سزا ملے گی تب بھی اسی کی طرف جاوے۔ یعنی کوئی ثواب یا عذاب اس کی طرف جانے کا اصل مقصد نہ ہو۔ محض خدا تعالیٰ ہی اصل مقصد ہو۔ جب وفاداری اور اخلاص کے ساتھ اس کی طرف آئے گا اور اس کا قرب حاصل ہوگا تو یہ وہ کچھ دیکھے گا جو اس کے وہم و گمان میں بھی کبھی نہ گذرا ہوگا اور کشوف اور خواب تو کچھ چیز ہی نہ ہوں گے۔ پس میں تو اس راہ پر چلانا چاہتا ہوں اور یہی اصل غرض ہے اسی کو قرآن شریف میں فلاح کہا ہے قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكَّهَا ( الشمس : ١٠) اللہ اکبر ۔ اللہ تعالیٰ سے کیسی محبت اور اخلاص حضور کا ہے اور توحید کے کسی اعلیٰ مقام پر آپ کا قدم ہے ( ایڈیٹر ) ل برا الحکم جلد ۱۰ نمبر ۴۲ مورخه ۱۰ دسمبر ۱۹۰۶ صفحه ۳، ۴