ملفوظات (جلد 5) — Page 121
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۲۱ جلد پنجم ے رمئی ۱۹۰۳ء ( قبل از عشاء ) فرمایا کہ عورتوں کے حقوق کی جیسی حفاظت اسلام نے کی ہے ویسی کسی عورتوں کے حقوق دوسرے مذہب نے قطعاً نہیں کی ۔ مختصر الفاظ میں وَ لَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ (البقرۃ: ۲۲۹) ہر ایک قسم کے حقوق بیان فرما دیئے ۔ یعنی جیسے حقوق مردوں کے عورتوں پر ہیں ویسے ہی عورتوں کے مردوں پر بھی ہیں بعض لوگوں کا حال سنا جاتا ہے کہ ان بچاریوں کو پاؤں کی جوتی کی طرح جانتے ہیں اور ذلیل ترین خدمات ان سے لیتے ہیں ۔ گالیاں دیتے ، حقارت کی نظر سے دیکھتے اور پردہ کے حکم کو ایسے ناجائز طریق سے کام میں لاتے ہیں کہ گویا وہ زندہ درگور ہوتی ہیں ۔ چاہیے کہ عورتوں سے انسان کا دوستانہ طریق اور تعلق ہو۔ اصل میں انسان کے اخلاق فاضلہ اور خدا سے تعلق کی پہلی گواہ تو یہی عورتیں ہوتی ہیں اگر ان سے اس کے تعلقات اچھے نہیں تو پھر خدا سے کس طرح ممکن ہے کہ صلح ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ اپنی بیوی سے اچھا سلوک کرنے والا ہی تم میں سے بہترین ہے۔ ۸ رمتی ۱۹۰۳ء (مجلس قبل از عشاء) L یہ ظاہری مٹک بندی تو مسیلمہ نے بھی کر محمد حسین بٹالوی اور قرآن کریم کی بے ادبی تھی اس میں قرآن شریف کی خصوصیت 66 کیا ہے ۔ یہ ایک کلمہ ہے جو کہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اول المکفرین کی قلم سے قرآن کریم کی شان میں نکلا ہے۔ اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ اس سے بڑھ کر کیا بے ادبی ہو گی کہ قرآن شریف کی آیات کو جو کہ ہر ایک پہلو اور ہر ایک رنگ ل الحکم جلدے نمبر ۱۸ مورخه ۱۷ رمئی ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۲، البدر جلد ۲ نمبر ۱۸ مورخه ۲۲ رمئی ۱۹۰۳ء صفحه ۱۳۷