ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 120 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 120

ملفوظات حضرت مسیح موعود ( در بار شام ) ۱۲۰ جلد پنجم فرمایا کہ وحی کا قاعدہ ہے کہ اجمالی رنگ میں نازل ہوا کرتی ہے اور اس نزول وحی کا طریق کے ساتھ ایک تفہیم ہوتی ہے مثلاً جب آنحضرت کو نماز پڑھنے کا حکم ہوا ہے تو ساتھ کشفی رنگ میں نماز کا طریق اس کی رکعات کی تعداد، اوقات نماز وغیرہ کشفی رنگ میں بتا دیا گیا تھا۔ علیٰ ہذا القیاس۔ جو اصطلاح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس کی تفصیل اور تشریح کشفی رنگ میں ساتھ ہوتی ہے جن لوگوں کو وہ اس وحی کے منشا سے آگاہ کرتا ہے اور اس کو دوسرں کے دلوں میں داخل کرتا ہے جب سے دنیا ہے وحی کا یہی طرز چلا آیا ہے اور کل انبیاء کی وحی اسی رنگ کی تھی ۔ وحی کشفی تصویروں یا تفہیم کے سوا کبھی نہیں ہوئی اور نہ وہ اجمال بجز اس کے کسی کی سمجھ میں آسکتا ہے۔ مد سے خبر آئی ہے کہ اس جگہ آبادی کچھ اُو پر دو سو آدمی کی مد میں پیشگوئی کے مطابق تباہی ہے اور اب تک ایک سو تین آدمی مر چکے ہیں اور ابھی چار پانچ روز مرتے ہیں۔ اس پر حضرت اقدس نے نے حکم دیا ہے کہ اخباروں میں ممد کے متعلق پیشگوئی مندرجہ قصیدہ اعجاز احمد یہ کو شائع کر کے دکھائیں اور مولوی ثناء اللہ وغیرہ کو آگاہ کریں کہ وہی الفاظ جن پر وہ مقدمہ بنوانا چاہتا تھا خدا تعالیٰ اب پوری کر رہا ہے۔ اب لوگ سوچیں کہ وہ حق تھا یا نہیں ۔ ہے ل البدر سے ۔ ” جب سے دنیا شروع ہے وحی سوائے کشفی حالت کے ہوتی ہی نہیں ہے۔ ورنہ پھر یہ اعتراض ہو گا کہ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خائن تھے یا اپنی طرف سے بنا کر بتلا دیا کرتے تھے؟ بلکہ جس طرح خدا تعالیٰ ان کے دل میں ڈالتا تھا وہ دوسرے کے دل میں ڈال دیتے ۔“ (البدر جلد ۲ نمبر ۱۸ مورخه ۲۲ رمئی ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۳۷) الحکم جلدے نمبر ۱۸ مورخہ ۱۷ رمئی ۱۹۰۳ ء صفحہ ۲