ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 340 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 340

ہیں اور اَور طرف ہاتھ پاؤں مارتے پھرتے ہیں مگر جب تک وہ <mark>اس</mark> کے اصل علاج کی طرف ر<mark>جو</mark>ع نہ <mark>کر</mark>یں گے تب تک نجات کہاں؟ کوئی طبیبوں یا ڈاکٹروں کی طرف بھاگتا ہے اور کوئی ٹیکہ کے و<mark>اس</mark>طے بازوپھیلا تا ہے کوئی نئے تجربہ سے اور نئی ایجا د کے درپے ہے۔ہماری شریعت نے اگرچہ <mark>اس</mark>باب سے منع تو نہیں کیا بلکہ فِيْهِ شِفَآءٌ لِّلنَّ<mark>اس</mark>ِ سے معلوم ہوتا ہے کہ دوائوں میں خدا تعالیٰ نے خواص شفاء مرض بھی رکھے ہوئے ہیں اور حدیث شریف میں آیا ہے کہ دوائوں میں تاثیر ات ہوتی ہیں اور امراض کے معالجات ہوا <mark>کر</mark>تے ہیں۔مگر ان <mark>اس</mark>باب پر بھروسا <mark>کر</mark> لینا اور یہ گمان <mark>کر</mark>نا کہ انہی کے ذریعہ سے نجات اور کامیابی ہو جاوے گی یہ سخت شرک اور کفر ہے۔بھروسا <mark>اس</mark>باب پر ہرگزنہ چاہیے بلکہ یوں چاہیے کہ <mark>اس</mark>باب کو مہیا <mark>کر</mark>کے پھر بھروسا خدا پر <mark>کر</mark>نا چاہیے کہ اگر وہ چاہے تو اِن <mark>اس</mark>باب کو مفید بناوے اور <mark>اس</mark>ی سے پھر بھی دعا <mark><mark>کر</mark>نی</mark> چاہیے کیونکہ <mark>اس</mark>باب پر نتائج مرتّب <mark>کر</mark>نا تواُسی کا کام ہے اور یہی توکل ہے۔نماز کی اہمیت اور حقیقت ایک شخص نے عرض کیا کہ حضور نماز کے متعلق ہمیں کیا حکم ہے۔فرمایا۔نمازہر ایک مسلمان پر فرض ہے۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پ<mark>اس</mark> ایک قوم <mark>اس</mark>لام لائی اور عرض کی کہ یا رسول اللہ ہمیں نماز معاف فرما دی جاوے کیونکہ ہم کاروباری آدمی ہیں۔مویشی وغیرہ کے سبب سے کپڑوں کا کوئی اعتماد نہیں ہوتا اور نہ ہمیں فرصت ہوتی ہے تو آپؐنے <mark>اس</mark> کے <mark>جو</mark>اب میں فرمایا کہ دیکھو! کہ جب نماز نہیں تو ہے ہی کیا؟ وہ دین ہی نہیں جس میں نماز نہیں۔نماز کیا ہے؟یہی کہ اپنے عجز، نیاز اور کمزوریوں کو خدا کے سامنے پیش <mark>کر</mark>نا اور <mark>اس</mark>ی سے اپنی حاجت روائی چاہنا۔کبھی <mark>اس</mark> کی عظمت اور<mark>اس</mark> کے احکام کی بجاآوری کے و<mark>اس</mark>طے دست بستہ کھڑا ہونا اور کبھی کمال مذلّت اور فروتنی سے <mark>اس</mark> کے آگے سجدہ میں گرجانا، <mark>اس</mark> سے اپنی حا جات کا مانگنا، یہی نماز ہے۔ایک سائل کی طرح کبھی <mark>اس</mark> مسئول کی تعریف <mark>کر</mark>نا کہ تو ایسا ہے، تو ایسا ہے <mark>اس</mark> کی عظمت اور جلال کا اظہار <mark>کر</mark>کے <mark>اس</mark> کی رحمت کو جنبش دلانا اور پھر <mark>اس</mark> سے مانگنا، پس جس دین میں یہ نہیں وہ دین ہی کیا ہے۔انسان ہر وقت محتاج ہے کہ <mark>اس</mark> سے <mark>اس</mark> کی