ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 62 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 62

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۶۲ جلد سوم اپنے اندر نہیں رکھتا ہے۔ یقیناً سمجھو کہ اگر مصیبت سے پہلے اپنے دلوں کو گداز کرو گے اور خدا تعالیٰ کے حضور اپنی اور اپنے خاندان کی حفاظت کے لیے گریہ و بکا کرو گے تو تمہارے خاندان اور تمہارے بچے طاعون کے عذاب سے بچائے جائیں گے اگر دنیا داروں کی طرح رہو گے تو اس سے کچھ فائدہ نہیں کہ تم نے میرے ہاتھ پر توبہ کی۔ میرے ہاتھ پر تو بہ کرنا ایک موت کو چاہتا ہے تا کہ تم نئی زندگی میں ایک اور پیدائش حاصل کرو۔ بیعت اگر دل سے نہیں تو کوئی نتیجہ اس کا نہیں میری بیعت سے خدا دل کا اقرار چاہتا ہے پس جو سچے دل سے مجھے قبول کرتا اور اپنے گناہوں سے سچی توبہ کرتا ہے، غفور و رحیم خدا اُس کے گناہوں کو ضرور رور بخش دیتا ہے اور وہ ایسا ہو جاتا ہے جیسے ماں کے پیٹ سے نکلا ہے۔ تب فرشتے اس کی حفاظت کرتے ہیں ۔ ایک گاؤں میں اگر ایک آدمی نیک ہو تو اللہ تعالیٰ تو اس نیک کی رعایت اور خاطر سے اس گاؤں کو تباہی سے محفوظ کر لیتا ہے لیکن جب تباہی آتی ہے تو پھر سب پر پڑتی ہے مگر پھر بھی وہ اپنے بندوں کو کسی نہ کسی نہج سے بچا لیتا ہے۔ سنت اللہ یہی ہے کہ اگر ایک بھی نیک ہو تو اس کے لیے دوسرے بھی بچائے جاتے ہیں۔ جیسے حضرت ابراہیم کا قصہ ہے کہ جب لوط کی قوم تباہ ہونے لگی تو انہوں نے کہا کہ اگر سو میں سے ایک ہی نیک ہو تو کیا تباہ کر دے گا؟ کہا نہیں آخر ایک تک بھی نہیں کروں گا۔ فرمایا لیکن جب بالکل حد ہی ہو جاتی ہے تو پھر لا يَخَافُ عُقْبُهَا خدا کی شان ہوتی ہے پلیدوں کے عذاب پر وہ پروانہیں کرتا کہ اُن کی بیوی بچوں کا کیا حال ہوگا اور صادقوں اور راستبازوں کے لیے كَانَ أَبُوهُمَا صَالِحًا (الكهف:۸۳) کی رعایت کرتا ہے۔ حضرت موسیٰ اور خضر کو حکم ہوا تھا کہ ان بچوں کی دیوار بنا دو اس لیے کہ ان کا باپ نیک بخت تھا۔ اور اس کی نیک بختی کی خدا نے ایسی قدر کی کہ پیغمبر راج مزدور ہوئے ، غرض ایسا تو رحیم کریم ہے لیکن اگر کوئی شرارت کرے اور زیادتی کرے تو پھر بہت بری طرح پکڑتا ہے۔ وہ ایسا غیور ہے کہ اس کے غضب کو دیکھ کر کلیجہ پھٹتا ہے۔ دیکھولوط کی بستی کو کیسے تباہ کر ڈالا ۔ اس وقت بھی دنیا کی حالت ایسی ہی ہو رہی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے غضب کو کھینچ لائی ہے تم بہت