ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 61 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 61

ملفوظات حضرت مسیح موعود ٦١ جلد سوم غرض یہ طاعون خدا کا قہر ہے۔ عقل مند وہی ہے جو ہوا پہچان لے اور خدا کی طاعون قہر الہی ہے باتوں پر صدق دل سے ایمان لے آئے ۔ یاد رکھو کہ خدا تعالی جو اس وقت عذاب دے رہا ہے وہ ایک خاص کام کے لیے عذاب دے رہا ہے۔ ہمارے سلسلہ کی بابت مولویوں ، صوفیوں یا سجادہ نشینوں سے بات کرو تو وہ پہلے ہی گالیاں دینی شروع کر دیتے ہیں ۔ اب دیکھ لو کہ خدا تعالیٰ کا صبر کتنا بڑا صبر ہے کہ ہزار برس سے اوپر ہونے کو آیا کہ خدا کے پاک نبیوں اور راستبازوں اور برگزیدوں کو گالیاں دی جاتی ہیں اور اُن کی بے حرمتی اور ذلت کے لیے ہر قسم کے وسائل اختیار کئے جاتے ہیں آخر اُس نے ان سب نبیوں اور خصوصاً ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و عظمت کو قائم کرنے کے لیے یہ سلسلہ قائم کیا۔ اور جب سے یہ قائم ہوا اس کے ساتھ بھی وہی سلوک ہوا جو پہلے راستبازوں کے ساتھ ہوا تھا مگر آخر خدا تعالیٰ نے ان حد سے بڑھے ہوئے پیا کوں اور شوخ چشموں کا علاج کرنا چاہا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ وہ بہت حلیم ہے مگر اس میں بھی کلام نہیں کہ جب پکڑتا ہے تو سخت پکڑتا ہے۔ کیا سچ کہا ہے۔ شعر ہاں مشو مغرور بر حلیم خدا دیر گیرد سخت گیرد مرترا آدمی دو قسم کے ہوتے ہیں ۔ ایک میرے ہاتھ پر تو بہ کرنا ایک موت کو چاہتا ہے تو وہ سعید الفطرت ہوتے ہیں جو صدیق پہلے ہی مان لیتے ہیں۔ یہ لوگ بڑے ہی دور اندیش اور باریک بین ہوتے ہیں جیسے حضرت ابو بکر صد رضی اللہ عنہ تھے۔ اور ایک بیوقوف ہوتے ہیں جب سر پر آپڑتی ہے تب کچھ چونکتے ہیں۔ اس لیے تم اس سے پہلے کہ خدا کا غضب آجاوے دعا کرو اور اپنے آپ کو خدا کی پناہ اور حفاظت میں دے دو۔ دعا اس وقت قبول ہوتی ہے جب دل میں درد اور رقت پیدا ہو اور مصائب اور غضب الہی دور ہو لیکن جب بلا سر پر آئی بے شک اس وقت بھی ایک درد پیدا ہوتا ہے مگر وہ در دقبولیت دعا کا جذب