ملفوظات (جلد 1) — Page 191
ہوں کہ مَیں خدا تعالیٰ کے وعدہ کے موافق مسیح موعود ہوکر آیا ہوں۔چاہو تو قبول کرو چاہو تو رَدّ کرو۔مگر تمہارے رَدّ کرنے سے کچھ نہ ہوگا۔خدا تعالیٰ نے جوارادہ فرمایا ہے وہ ہوکر رہے گا کیونکہ خدا تعالیٰ نے پہلے سے براہین میں فرما دیا ہے صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ وَکَانَ وَعْدًامَّفْعُوْلًا ۲۴؎ ۲۱؍جنوری ۱۸۹۸ء استغفار عذابِ الٰہی اور مصائب شدیدہ کے لئے سِپر کا کام دیتا ہے بجائے خود مرضِ طاعون عذاب شدید ہے۔دُوسرا قانون اس پر سخت ہے۔جو دوسرا عذاب ہے اور مرض سے بھی بڑھ کر ہے۔عورت ہو یا بچہ ہو الگ کیا جاتا ہے اور گھر کو خالی کرنے کا حکم دیا جاتا ہے۔اس مرض اور اس کے قانون پر غور کرکے میرے دل میں ایک درد پیدا ہوا اور مَیں نے تہجد میں اس کے متعلق دعا کی تو الہام ہو ا اِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ اب خیال ہوتا ہے کہ وہ الہام جو ہوا تھا کہ ’’کون کہہ سکتا ہے اے بجلی آسمان سے مت گر۔‘‘ شاید اسی سے متعلق ہو۔مَیں تمہیں یہ سمجھانا چاہتا ہوں کہ جو لوگ قبل از نزول بلا دعا کرتے ہیں اور استغفار کرتے اور صدقات دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ اُن پر رحم کرتا ہے اور عذابِ الٰہی سے اُن کو بچا لیتا ہے۔میری ان باتوں کو قصہ کے طور پر نہ سنو۔میں نُصْحًا لِّلّٰہ کہتا ہوں اپنے حالات پر غور کرو۔اور آپ بھی اور اپنے دوستوں کو بھی دعا میں لگ جانے کے لئے کہو۔استغفار، عذابِ الٰہی اور مصائب شدیدہ کے لئے سپر کا کام دیتا ہے۔قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَ هُمْ يَسْتَغْفِرُوْنَ (الانفال:۳۴) اس لئے اگر تم چاہتے ہو کہ اس عذاب الٰہی سے تم محفوظ رہو تو استغفار کثرت سے پڑھو۔گورنمنٹ کو اختیار ہوگا کہ مبتلا اشخاص کو علیحدہ رکھا جائے۔گویا وہ لوگ جو علیحدہ کئے جاویں گے