خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 582 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 582

خطبات مسرور جلد 17 582 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 08 نومبر 2019 سیلاب کی وجہ سے تمام راستے بند ہو گئے اور مجھے اس کی بڑی فکر تھی۔میں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ امیر اچندہ مرکز میں پہنچانے کا اب کوئی وسیلہ نہیں ہے اور دن بھی تھوڑے رہ گئے ہیں، کوئی ذریعہ بنادے تو آج جب آپ لوگ یہ دیکھنے کے لیے آئے ہیں کہ ہم کس حال میں ہیں نہ یہ کہ چندہ لینے آئے تھے تو اس وجہ سے میں بے اختیار رو پڑا کہ اللہ تعالیٰ نے کتنی جلدی میری دعا قبول کرلی اور میں اپنے اس فرض کو پورا کرنے کے قابل ہوا۔اپنے نقصان کی کوئی فکر نہیں۔فکر ہے تو یہ کہ میں نے جو کام اللہ کی خاطر کرنے کا وعدہ کیا ہے جو قربانی میں نے خدا تعالیٰ کی توجہ حاصل کرنے کے لیے دینی تھی اس کی ادا ئیگی وقت پہ ہو جائے۔انڈیا سے ابراہیم صاحب انسپکٹر تحریک جدید کرناٹک صوبہ کے لکھتے ہیں اور اس میں بھی اللہ تعالیٰ کے سلوک کی ایک اور مثال ہے۔گلبرگہ کے ایک خادم ہیں۔ان کو بنگلور کی ایک کمپنی میں ہیں ہزار روپے ماہانہ پر ایک ملازمت ملی تھی۔کہتے ہیں انہیں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیان فرمودہ معیاری قربانی کے حوالے سے نصف تنخواہ پیش کرنے کی تحریک کی گئی۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 28 صفحہ 173۔خطبہ جمعہ فرمودہ 19 مئی 1947ء) تو باوجود اس کے کہ ان کے گھر کے مالی حالات ٹھیک نہیں تھے پھر بھی انہوں نے دس ہزار روپے کا وعدہ پیش کر دیا ان کے رشتہ دار کہنے لگے کہ ابھی تمہیں نئی ملازمت ملی ہے۔اتنا وعدہ تمہیں نہیں کرنا چاہیے۔ایک مہینے کی تنخواہ کا نصف وعدہ نہیں کرنا چاہیے، مشکل پیش آئے گی تو موصوف نے کہا کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب یہ فرمایا ہے کہ جب تک انسان پوری کوشش نہیں کرتاخد اتعالیٰ کے فرشتے اس میں زور اور طاقت پیدا نہیں کرتے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 32 صفحہ 136۔خطبہ جمعہ فرموده 17 ستمبر 1951ء) تو اس وجہ سے بہر حال میں نے تو یہ دینا ہے۔کہتے ہیں اس بات کو ابھی چند دن گزرے تھے کہ انہیں ایک دوسری کمپنی میں ملازمت مل گئی جہاں وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے مبلغ ایک لاکھ ستائیس ہزار روپے ماہوار تنخواہ پارہے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ بھی چندے کی برکت سے ہوا ہے۔پھر انڈیا کے صوبہ کیرالہ کے انسپکٹر تحریک جدید ہیں، وہ لکھتے ہیں کہ یہاں کیرولائی کے ہمارے ایک مخلص احمدی ہیں۔تحریک جدید کی مالی قربانی پیش کرنے والوں میں بڑی ممتاز حیثیت کے حامل ہیں اور ممتاز حیثیت رکھتے ہیں۔موصوف کا فرنیچر کا کاروبار ہے اور وکیل المال کے دورے کے دوران انہوں نے دعا کی غرض سے اپنی فیکٹریز دکھائیں بلکہ اس امر کا ذکر کیا کہ ان دنوں کاروباری حالات اچھے نہیں ہیں اور دعا کے لیے خاص طور پر کہا تو وہاں دعا کروائی۔بہر حال اس کے باوجود موصوف نے اپنا جو اس سال کا چندہ تھا وہ پندرہ لاکھ کا وعدہ لکھوایا لیکن دوران سال وعدے کے مقابل پر صرف دولاکھ ادا ہو سکے۔وقت کم تھا تو بڑے پریشان تھے ، بڑے مضطرب تھے۔اسی فکر میں تھے کہ کس طرح یہ چندہ ادا ہو گا اور مجھے بھی وہ خط لکھتے رہے۔مالی سال کے آخری دن یہی خط لکھا کہ مالی سال کے آخری دن ہیں دعا کریں اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے وعدہ پورا کرنے کی توفیق دے۔کہتے ہیں ابھی چند گھنٹے ہی گزرے تھے کہ ایک خطیر رقم ان کے اکاؤنٹ میں آئی جس سے