خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 557 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 557

خطبات مسرور جلد 17 557 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 25 اکتوبر 2019 ہمیں ہمیشہ سامنے رکھنا چاہیے کہ کفر اور ایمان کے درمیان فرق کرنے والی بات ، والی چیز جو ہے وہ ترک نماز ہے۔(صحیح مسلم کتاب الایمان باب بیان اطلاق اسم الكفر على من ترك الصلاة حديث:82) کفر اور ایمان کے درمیان فرق کس چیز سے ہو گا اسی سے ہو گا کہ نماز چھوڑ دی۔پس یہ ارشاد ہمیں ہلا ہے۔دینے والا ہونا چاہیے کہ مومن وہ ہے جو نمازوں میں باقاعدہ ہے ورنہ اس میں اور ایک کافر میں کوئی فرق نہیں۔نماز باجماعت پڑھنے والے کا ثواب بھی اللہ تعالیٰ نے صرف یہ نہیں کہا کہ نمازیں پڑھو بلکہ باجماعت پڑھے۔حق ادا کر کے پڑھے تو پچیس گنا اور بعض جگہ ستائیس گنا ثواب رکھا ہوا ہے بیان کیا گیا ہے۔(صحيح البخارى كتاب الاذان باب فضل صلاة الجماعة حديث 645-646) اس کے باوجو د اگر بغیر کسی جائز عذر کے ہم اس طرف توجہ نہ دیں تو پھر ہماری کس قدر بد قسمتی ہے۔پس اگر ہم نے مساجد بنائی ہیں تو مسجدوں کے حق ادا کرنے کی بھی ضرورت ہے۔اپنی عبادتوں کے معیار بلند کرنے کی بھی ضرورت ہے۔اپنی مالی قربانیوں کی طرف توجہ دینے کی بھی ضرورت ہے۔خو د نیکیاں کرنے اور اپنے اخلاق بلند کرنے اور دوسروں کو نیکیاں کرنے کی تلقین کی ضرورت ہے۔خود یہاں کے ماحول کی برائیوں سے بچنے اور دوسروں کو بچانے کی ضرورت ہے ورنہ ہمارا عہد بیعت بھی صرف لفظی عہد بیعت ہے۔ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس ارشاد کو ہمیشہ سامنے رکھنا چاہیے۔آپ فرماتے ہیں: پس تم ایسے ہو جاؤ کہ خدا تعالیٰ کے ارادے تمہارے ارادے ہو جاویں اسی کی رضا میں رضا ہو۔اپنا کچھ بھی نہ ہو سب کچھ اس کا ہو جاوے۔صفائی کے یہی معنے ہیں کہ دل سے خدا تعالیٰ کی عملی اور اعتقادی مخالفت اٹھادی جاوے۔اور خدا تعالیٰ کسی کی نصرت نہیں کرتا جب تک وہ خود نہیں دیکھتا کہ اس کا ارادہ میرے ارادے اور اس کی مرضی میری رضا میں فنا نہیں ہے۔فرمایا میں کثرت جماعت سے کبھی خوش نہیں ہوتا۔اب اگر اس وقت جس وقت آپ بات فرمارہے ہیں احمدیوں کی تعداد چار لاکھ بیان کی جاتی تھی کہ چار لاکھ یا اس سے بھی زیادہ ہے مگر حقیقی جماعت کے معنے یہ نہیں ہیں کہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر صرف بیعت کر لی بلکہ جماعت حقیقی طور سے جماعت کہلانے کی تب مستحق ہو سکتی ہے کہ بیعت کی حقیقت پر کار بند ہو۔سچے طور سے ان میں ایک پاک تبدیلی پید اہو جاوے اور ان کی زندگی گناہ کی آلائش سے بالکل صاف ہو جاوے۔نفسانی خواہشات اور شیطان کے پنجے سے نکل کر خدا تعالیٰ کی رضا میں محو ہو جاوے۔حق اللہ اور حق العباد کو فراخ دلی سے پورے اور کامل طور سے ادا کریں۔دین کے واسطے اور اشاعت دین کے لیے ان میں ایک تڑپ پید اہو جاوے۔اپنی خواہشات اور ارادوں اور آرزوؤں کو فنا کر کے خدا کے بن جاویں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم گمراہ ہو پر جسے میں ہدایت دوں۔تم سب اندھے ہو مگر وہ جس کو میں نور بخشوں۔تم سب مردے ہو مگر وہی زندہ ہے جس کو میں روحانی زندگی کا شربت پلاؤں۔انسان کو خدا تعالیٰ کی ستاری ڈھانکے رکھتی ہے ورنہ اگر لوگوں کے اندرونی حالات اور باطن دنیا کے سامنے کر دیے جائیں تو قریب ہے کہ بعض بعض کے قریب تک بھی جانا پسند نہ کریں۔یہ تو اللہ تعالیٰ کی ستاری ہے جو ہمارے عیب ڈھانپے ہوئے ہیں۔اگر عیب ظاہر ہو جائیں اور ایک دوسرے پر ظاہر ہونا شروع ہو جائیں تو بعض لوگ شاید بعض دوسرے لوگوں کے قریب بھی نہ جائیں۔فرمایا خدا تعالیٰ