خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 558 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 558

خطبات مسرور جلد 17 558 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 اکتوبر 2019 بڑا ستار ہے۔انسانوں کے عیوب پر ہر ایک کو اطلاع نہیں دیتا۔پس انسان کو چاہیے کہ نیکی میں کوشش کرے اور ہر وقت دعا میں لگا ر ہے۔یقیناً جانو کہ جماعت کے لوگوں میں اور ان کے غیر میں اگر کوئی مابہ الامتیاز ہی نہیں ہے تو پھر خدا کوئی کسی کا رشتہ دار تو نہیں ہے۔ہم احمدی ہوئے، بیعت ہوئے، ہمارے میں اور دوسروں میں کوئی فرق نہیں ہے تو پھر خدا کوئی کسی کارشتے دار نہیں ہے۔کیا وجہ ہے کہ ان کو عزت دے اور ہر طرح سے حفاظت میں رکھے۔اگر فرق نہیں ہے تو اللہ تعالیٰ کسی کا رشتہ دار تو نہیں ہے کہ ضرور ہمیں عزت دے اور ان کو ذلت دے اور عذاب میں گرفتار کرے۔فرمایا کہ انمَا يَتَقَبَّلُ اللهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ (المائدة: 28) متقی وہی ہیں کہ خدا تعالیٰ سے ڈر کر ایسی باتوں کو ترک کر دیتے ہیں جو منشائے الہی کے خلاف ہیں۔نفس اور خواہشات نفسانی کو اور دنیا و مافیہا کو اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں بیج سمجھیں۔ایمان کا پتا مقابلے کے وقت لگتا ہے۔بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ ایک کان سے سنتے ہیں دوسری طرف سے نکال دیتے ہیں ان باتوں کو دل میں نہیں اتارتے۔چاہے جتنی نصیحت کرو مگر ان کو اثر نہیں ہوتا۔یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ بڑا بے نیاز ہے جب تک کثرت سے اور بار بار اضطراب سے دعا نہیں کی جاتی وہ پروا نہیں کرتا۔دیکھو کسی کی بیوی یا بچہ بیمار ہو ، کسی پر سخت صدمہ آجاوے تو ان باتوں کے واسطے اس کو کیسا اضطراب ہو تا ہے۔پس دعا میں بھی جب تک کچی تڑپ اور حالت اضطراب پیدا نہ ہو تب تک وہ بالکل بے اثر اور بیہودہ کام ہے۔قبولیت کے واسطے اضطراب شرط ہے جیسا کہ فرمایا۔آمَن يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ (النمل: 63) (ماخوذ از ملفوظات جلد 10 صفحہ 136-137) یعنی کون کسی بے کس کی دعا سنتا ہے جب وہ خدا سے دعا کرتا ہے اور اس کی تکلیف کو دور کر دیتا ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ اپنی اصلاح جو کرتے ہو تو اپنے اہل و عیال کو بھی اپنی اصلاح میں شامل کرو۔بیوی بچوں کی اصلاح کرنا بھی تمہارا فرض ہے۔فرمایا " خدا تعالیٰ کی نصرت انہی کے شامل حال ہوتی ہے جو ہمیشہ نیکی میں آگے ہی آگے قدم رکھتے ہیں ایک جگہ نہیں ٹھہر جاتے اور وہی ہیں جن کا انجام بخیر ہوتا ہے۔بعض لوگوں کو ہم نے دیکھا ہے کہ ان میں بڑا شوق ذوق اور شدت رفت ہوتی ہے مگر آگے چل کر بالکل ٹھہر جاتے ہیں اور آخر ان کا انجام بخیر نہیں ہوتا۔اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں یہ دعا سکھلائی ہے کہ اصلاح لي في ذُرِّيَّتِي (الاحقاف: 16) میرے بیوی بچوں کی بھی اصلاح فرما۔اپنی حالت کی پاک تبدیلی اور دعاؤں کے ساتھ ساتھ اپنی اولاد اور بیوی کے واسطے بھی دعا کرتے رہنا چاہیے کیونکہ اکثر فتنے اولاد کی وجہ سے انسان پر پڑ جاتے ہیں اور اکثر بیوی کی وجہ سے۔دیکھو پہلا فتنہ حضرت آدم پر بھی عورت ہی کی وجہ سے آیا تھا۔حضرت موسی کے مقابلے میں بلغم کا ایمان جو حبط کیا گیا اصل میں اس کی وجہ بھی توریت سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ بلغم کی عورت کو اس بادشاہ نے بعض زیورات دکھا کر طمع دے دیا تھا اور پھر عورت نے بلغم کو حضرت موسیٰ پر بد دعا کرنے کے واسطے اکسایا تھا۔غرض ان کی وجہ سے بھی اکثر انسان پر مصائب شدائد آجایا کرتے ہیں تو ان کی اصلاح کی طرف بھی پوری توجہ کرنی چاہیے اور ان کے واسطے بھی دعائیں کرتے رہنا چاہیے۔" ( ملفوظات جلد 10 صفحہ 139)