خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 556 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 556

خطبات مسرور جلد 17 556 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 اکتوبر 2019 رسمی اور تقلید ی عبادت کرتے ہیں۔صرف ظاہری عبادت ہوتی ہے۔ترقی کا کبھی خیال نہیں کیا۔گناہوں کی جستجو ہی نہیں۔یہ کوشش ہی نہیں کرتے کہ تلاش کریں کہ میرے اندر کون کون سے گناہ ہیں۔سچی توبہ کی طلب ہی نہیں۔گناہوں کی طرف توجہ ہو گی، انسان تلاش کرے کون کون سے گناہ ہیں تو پھر سچی توبہ بھی ہو گی اور وہ (توبہ ) طلب کرے گا۔پس وہ پہلے قدم پر ہی رہتے ہیں۔ایسے انسان بہائم سے کم نہیں۔تو پھر تو یہ جانوروں والی حالت ہے۔انسان اور جانور میں کوئی فرق نہیں۔ایسی نماز میں خدا کی طرف سے ویل لاتی ہیں، قبول نہیں ہو تیں بلکہ منہ پہ ماری جاتی ہیں۔نماز تو وہ ہے جو اپنے ساتھ ترقی لے آوے جیسے طبیب کے زیر علاج ایک بیمار ہے۔ایک نسخہ وہ دس روز استعمال کرتا ہے پھر اس سے اس کو روز بروز نقصان ہو رہا ہے۔جب اتنے دنوں کے بعد فائدہ نہ ہو تو بیمار کو شک پڑ جاتا ہے کہ نسخہ ضرور میرے مزاج کے موافق نہیں اور یہ بدلنا چاہیے۔پس رسم اور رسمی عبادت ٹھیک نہیں ہے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 7 صفحہ 225-226) اس کو بھی بدلنا پڑے گا۔سوچنا پڑے گا کہ کیا وجہ ہے ؟ کیوں کہ اللہ تعالیٰ کا دعوی ہے کہ میں خود دعا قبول کرتا ہوں اور میری دعائیں قبول نہیں ہو رہیں۔پس عبادت وہی ہے جس سے اللہ تعالیٰ کا قرب پیدا ہو۔پھر نماز کی حقیقت بیان فرماتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ " نماز اصل میں دعا ہے۔نماز کا ایک ایک لفظ جو بولتا ہے وہ نشانہ دعا کا ہوتا ہے۔اگر نماز میں دل نہ لگے تو پھر عذاب کے لیے تیار رہے کیونکہ جو شخص دعا نہیں کرتا وہ سوائے اس کے کہ ہلاکت کے نزدیک خود جاتا ہے اور کیا ہے۔ایک حاکم ہے جو بار بار اس امر کی ندا کرتا ہے۔" آواز دیتا ہے " کہ میں دکھیاروں کا دکھ اٹھاتا ہوں۔" حکومت نے اعلان کیا، حاکم وقت نے اعلان کیا کہ میں جو مجبور ہیں، دکھی ہیں ان کا دکھ اٹھاتا ہوں۔" مشکل والوں کی مشکل حل کرتا ہوں۔میں بہت رحم کرتا ہوں۔بے کسوں کی امداد کر تا ہوں لیکن ایک شخص جو کہ مشکل میں مبتلا ہے، اس کے پاس سے گزرتا ہے اور اس کی ندا کی پروا نہیں کرتا۔" وہ بلارہا ہے اور مشکل میں گرفتار ایک شخص ہے جو اس کے پاس سے گزر جاتا ہے اور پر وا نہیں کرتا" نہ اپنی مشکل بیان کر کے طلب امداد کرتا ہے تو سوائے اس کے کہ وہ تباہ ہو اور کیا ہو گا یہی حال خد اتعالیٰ کا ہے کہ وہ تو ہر وقت انسان کو آرام دینے کے لیے تیار ہے بشر طیکہ کوئی اس سے درخواست کرے۔قبولیت دعا کے لیے ضروری ہے کہ نافرمانی سے باز رہے اور دعا بڑے زور سے کرے کیونکہ پتھر پر پتھر زور سے پڑتا ہے تب آگ پیدا ہوتی ہے۔" (ملفوظات جلد 7 صفحہ 70) پس جب یہ حالت ہم اپنے اندر پیدا کر لیں کہ ہماری نمازیں بھی اور ہمارے عمل بھی خدا تعالیٰ کی ہی رضا حاصل کرنے کے لیے ہو جائیں تو پھر خدا تعالیٰ بھی ہمارے خوفوں کو ہمیشہ امن میں بدلتا چلا جائے گا۔یہ بات ہمیشہ یاد رکھیں کہ یہاں آکر جو کچھ ہمیں ملا ہے اللہ تعالیٰ کے فضل سے ملا ہے اور اس میں اضافہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی ہو گا۔اس لیے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف توجہ اور اس کے بندوں کے حقوق کی ادائیگی کے لیے کوشش اس کے فضلوں کو حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے۔آپ لوگ خود اپنے جائزے لے سکتے ہیں کہ کس حد تک ہم نماز کے قیام کی کوششیں کر رہے ہیں ؟ کس حد تک خدا تعالیٰ سے ہر ایک کا تعلق قائم ہو گیا ہے یا اس کے لیے کوشش کر رہے ہیں ؟ کس حد تک دنیا کے کام ہماری نمازوں میں حائل ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد