خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 512 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 512

خطبات مسرور جلد 17 512 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 ستمبر 2019 سلسلہ پیدائش کی علت غائی" اس کا بنیادی مقصد " صرف اپنی عبادت رکھی ہے۔"جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے " وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاريات: 57)" اور میں نے انسانوں اور جنوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔پس فرماتے ہیں " پس حصر کر دیا ہے۔" یہاں فیصلہ کر دیا، پابند کر دیا کہ صرف عبادت الہی مقصد ہونا چاہیے اور صرف اسی غرض کے لیے یہ سارا کارخانہ بنایا گیا ہے۔بر خلاف اس کے اور ہی اور ارادے اور اور ہی اور خواہشات ہیں۔" ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 246-247) لیکن ہو تا کیا ہے ؟ دنیا میں اس وقت بالکل اس کے خلاف ہو رہا ہے، اس کے الٹ ہو رہا ہے۔اس مقصد کے بجائے ہر انسان کے اور ہی اور ارادے ہیں، دنیا میں پڑ گئے ہیں اور اور ہی اور خواہشات ہیں، خواہشات بھی عجیب طرح کی ہو گئی ہیں۔اللہ تعالیٰ کو حاصل کرنے کی خواہش سے زیادہ دنیاوی خواہشات بڑھ گئی ہیں۔پس یہ باتیں ہمیں غور اور فکر میں ڈالنے والی ہونی چاہیں کہ کس طرح ہم اپنی زندگی کے مقصد کو حاصل کرنے والے بنیں۔صرف اس ورلی زندگی کی فکر نہ کریں۔ہماری سوچیں، ہماری محنت صرف اس دنیا کو حاصل کرنے میں صرف نہ ہو جائے بلکہ ہم اپنی زندگی کے اصل مقصد کو حاصل کرنے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لانے والے ہوں۔ان ملکوں میں آکر ہم اللہ تعالیٰ کے فضل کو جذب کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اس کی عبادت کا حق ادا کرنے والے بنیں۔ہمارے ارادے اور ہماری خواہشات اور ہی اور نہ ہوں جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا بلکہ ہم اپنے پید ا کرنے والے کو پہچاننے والے بنتے ہوئے اپنی پیدائش کا حق ادا کرنے والے بنیں اور اس زمانے میں جس مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مبعوث فرمایا ہے اس کو پورا کرنے والے بنیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں میں اس لیے بھیجا گیا ہوں تا ایمانوں کو قوی کروں، مضبوط کروں اور خدا تعالیٰ کا وجو دلوگوں پر ثابت کر کے دکھلاؤں، کیونکہ ہر ایک قوم کی ایمانی حالتیں نہایت کم زور ہو گئی ہیں اور عالم آخرت صرف ایک افسانہ سمجھا جاتا ہے۔مرنے کے بعد کی زندگی کو تو سمجھتا ہی کوئی نہیں، سمجھتے ہیں ایک کہانی ہے، افسانہ ہے، کچھ بھی نہیں ہو گا۔فرمایا اور ہر ایک انسان اپنی عملی حالت سے بتارہا ہے کہ وہ جیسا کہ یقین دنیا اور دنیا کی جاہ و مراتب پر رکھتا ہے اور جیسا کہ بھروسا اسے دنیاوی اسباب پر ہے یہ یقین اور بھروسا ہر گز اس کو خدا تعالیٰ اور عالم آخرت پر نہیں۔زبانوں پر کچھ اور ہے مگر دلوں میں دنیا کی محبت کا غلبہ ہے۔زبان پر بے شک اللہ کا نام ہے لیکن دلوں پر دنیا کی محبت کا غلبہ ہے اور یہ غلبے کا اظہار عملوں سے ہو جاتا ہے۔آپ نے فرمایا کہ یہود میں خدا کی محبت ٹھندی ہوگئی تھی تو مسیح آیا تھا اس وقت ان کو دین کی طرف لانے کے لیے اور خدا کی طرف لانے کے لیے اور اب میرے زمانے میں بھی یہی حالت ہے۔سوئیں بھی بھیجا گیا ہوں کہ ایمان کا زمانہ پھر آئے اور دلوں میں تقوی پیدا ہو۔(ماخوذ از کتاب البریه ، روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 291 تا 293 حاشیہ) پس آج ہمارا کام ہے کہ آپ کی بیعت کا حق اد ا کرتے ہوئے جہاں اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کی محبت میں