خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 9
خطبات مسرور جلد 17 9 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 04 جنوری 2019 کے بعد تبلیغ کا سلسلہ شروع ہوا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پیغام پہنچایا۔جماعت احمدیہ کی غرض و غایت بتائی۔اس پر اس گاؤں کے ایک معمر بزرگ عثمان کمارا اٹھے اور اپنے ایک خواب کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میں نے چند دن پہلے دیکھا تھا کہ آسمان گر گیا ہے اور ہر طرف کہرام مچا ہوا ہے۔اسی اثنا میں سڑک پر ایک گاڑی رکتی ہے جس میں سفید لوگ بیٹھے ہیں جو ہمیں آواز دیتے ہیں کہ ہمارے پاس آجاؤ ہم تمہیں سلامتی دیں گے۔اس پر یہ خواب ختم ہو گیا۔اس کے بعد میں سوچ میں پڑ گیا کہ یہ کیسا خواب ہے ؟ اس کا مطلب کیا ہو سکتا ہے ؟ آپ لوگوں کے آنے سے مجھے سمجھ آگئی کہ خواب کا مطلب کیا ہے۔کہنے لگے کہ میں کافی عمر کا ہو گیا ہوں۔میں نے زندگی میں پہلی دفعہ غیر افریقنوں کو ، سفید لوگوں کو اسلام کی تبلیغ کرتے ہوئے دیکھا ہے۔چنانچہ وہاں پر موجود سب لوگوں نے جماعت میں شمولیت کا فیصلہ کیا، بیعت کر لی اور وقف جدید کے سال کا بھی آخر ہی تھا۔اُن کو بتایا گیا کہ چندوں کی طرف توجہ کریں۔اس بیعت کے بعد جب انہیں چندے کی تحریک کی گئی تو انہوں نے چندہ بھی دیا اور ان میں ایمان اور اخلاص میں اضافہ ہو رہا ہے۔صدر لجنہ کینیڈا کہتی ہیں کہ ایک مجلس کے دورے کے دوران ایک خاتون نے بتایا کہ ان کی بارہ سال کی بچی کو سکول کی طرف سے اسی ڈالر کا انعام ملا۔اس سے وہ اپنی مرضی کا کچھ خریدنا چاہتی تھی لیکن سیکرٹری وقف جدید کی تحریک پر اس نے انعام کی یہ ساری رقم چندے میں ادا کر دی۔وہ کہتی ہیں اللہ تعالیٰ نے بھی اس کو اس طرح نوازا کہ اگلے دن عبد السلام سائنس فیئر میں اس کی پہلی پوزیشن آئی اور اسے تین سو ڈالر کا انعام مل گیا۔اس طرح اللہ تعالیٰ نے اس بچی کے ایمان اور اعتقاد کو پختگی عطا فرمائی۔آجکل ایک نئی گیم فورٹ نائٹ (Fortnite) شروع ہوئی ہوئی ہے بعض بچے اس میں اپنی رقمیں ضائع کرتے ہیں۔والدین کو بھی چاہئے اس سے ان کو روکیں اور تنظیموں کو ، خاص طور پہ خدام الاحمدیہ ، اطفال الاحمدیہ کو بھی چاہئے کیونکہ ایک کے بعد اگلے سٹیپ (step) پر جانے کے لئے پھر کارڈ لیتے ہیں ، پھر پیسے خرچ کرتے ہیں۔بلکہ پچھلے دنوں میں ایک آرٹیکل تھا، ایک تحقیق تھی کہ بعض ایسے گروہ، گروپ بن گئے ہیں جو بچوں کے ساتھ رابطہ کرتے ہیں ، ور غلاتے ہیں اور کارڈ لے کر دینے کے بہانے پھر ان کے والدین کے بنک اکاؤنٹ نمبر بھی لے رہے ہیں اور کچھ عرصہ کے بعد والدین کو پتہ لگتا ہے کہ ان کے بنک اکاؤنٹ میں رقمیں نہیں ہیں۔اس گیم کی وجہ سے بچوں میں جو نشہ کی طرح کی عادت پڑھ رہی ہے اس سے نہ صرف ان کا وقت ضائع ہو رہا ہے اور غلط قسم کی سوچیں پیدا ہو رہی ہیں بلکہ بعض والدین کو نقصان بھی ہوا ہے۔اس چیز سے بچنا چاہئے اور اللہ تعالیٰ نے جس طرف توجہ دلائی ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرو، یہ احساس بچوں میں خاص طور پر وقف جدید کے لئے تو پیدا کرنا چاہئے۔انڈیا کے کرناٹک صوبہ کے ایک انسپکٹر صاحب لکھتے ہیں کہ ایک ریفریشر کورس منعقد ہوا جس میں کہتے ہیں کہ خاکسار نائب ناظم مال اور وقف جدید کے ساتھ شامل ہوا۔وہاں پر نائب ناظم مال نے وہاں کے لوکل معلم کے گھر میں اس بات کا ذکر کیا کہ دوران سال کیرالہ میں شدید بارشیں ہوئی ہیں اور کافی نقصان ہوا ہے اس