خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 8 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 8

خطبات مسرور جلد 17 8 خطبه جمعه فرمودہ مور محد 04 جنوری 2019 رومانیہ جو مشرقی یورپ میں ہے وہاں کے مبلغ فہیم صاحب لکھتے ہیں: یہاں ایک مقامی احمدی رومانین ہیں۔وہاں ٹیلر نگ کا کام کرتے ہیں۔چندے کی ادائیگی میں بڑے با قاعدہ ہیں اور بہت بشاشت اور اخلاص سے چندہ دیتے ہیں۔انہیں چندے کی یاد دہانی کی کبھی ضرورت پیش نہیں آئی۔ہمیشہ خو د وقت پر ادا کر دیتے ہیں۔پھر چندے کی ادائیگی میں بہت سلیقہ برتے ہیں۔ہمیشہ سادہ لفافے میں یا کسی سفید کاغذ میں رکھ کے چندہ پیش کرتے ہیں اور لفافے پر مالی قربانی کے الفاظ لکھے ہوتے ہیں۔انہوں نے مجھے ایک خط لکھا تھا، اسی خط کا حوالہ وہ مربی صاحب دیتے ہیں کہ اپنے مشاہدے کا ذکر کیا انہوں نے اس خط میں کہ اللہ کے فضل سے میں چندہ دیتا ہوں۔جب سے میں نے چندہ دینا شروع کیا ہے یہ بات میرے مشاہدے میں ہے کہ خدا کی رضا کے لئے چندہ دینے کے ساتھ میرے گاہکوں کی تعداد بڑھتی ہے۔آمدنی میں خدا تعالیٰ کا خاص فضل ہوتا ہے۔ایک طرف میں اپنی جیب سے خدا کے رستے میں نکالتا ہوں اور دوسری طرف خدا تعالیٰ میرے جیب میں وہی رقم بڑھا کر واپس لے آتا ہے کیونکہ چندے کے بعد میرے پاس کام کروانے کے لئے زیادہ گاہک آجاتے ہیں۔پس یہ ہیں لوگ کہ ان کو اللہ تعالیٰ ان ملکوں میں ، یورپین ملکوں میں رہتے ہوئے بھی، دنیاداری میں زندگی گزارنے کے باوجود جب احمدیت کی طرف لے کر آیا تو ان کو اپنے فضلوں سے نواز کر ان کے ایمان میں پختگی عطا فرما رہا ہے۔انڈیا سے انسپکٹر سلیم صاحب لکھتے ہیں کہ جماعت جے پور میں ایک احمدی دوست جو کہ ایک پرائیویٹ سکول میں ٹیچر تھے گزشتہ سال انہیں چندہ وقف جدید کی تحریک کی گئی۔ان سے درخواست کی گئی کہ آپ کا وعدہ تو آپ کی آمد سے پانچ ہزار ہونا چاہئے۔اس پر وہ کہنے لگے کہ میں تو ایک عام سے پرائیویٹ سکول کا ٹیچر ہوں اتنی رقم کہاں سے ادا کروں گا؟ بہر حال انہیں کہا گیا کہ اللہ تعالیٰ توفیق بھی دے گا۔اس سال جب دوبارہ ان سے ملنے کے لئے گئے تو وہ اسی سکول میں پر نسپل کی کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے۔کہنے لگے کہ چندے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس قدر برکت عطا کی ہے کہ میں نے یہ سکول خرید لیا ہے اور اس پر پھر ان کو تحریک کی گئی کہ اس سال پھر آپ کو اپنا وعدہ بڑھانا چاہئے تاکہ اللہ تعالیٰ آپ کو مزید سکول خریدنے کی توفیق عطا فرمائے۔کہنے لگے کہ ایک اور سکول بھی خریدنے کی بات ہو رہی ہے اور مالک کا ابھی فون آیا کہ آپ آکر چابی لے جائیں اور انسپکٹر صاحب لکھتے ہیں کہ اب ان کے پاس چار سکول ہیں۔پہلے ان کے مکان کی چھت ٹین کی ہوتی تھی۔چھوٹا سا شیلٹر (Shelter) سامکان تھا۔اب اللہ کے فضل سے ان کا تین منزلہ مکان بن گیا ہے جس میں سے ایک منزل انہوں نے نماز جمعہ کے لئے رکھی ہوئی ہے۔یہ فضل جو ہے یہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کی وجہ سے ہے۔اس کی وجہ سے ان کے ایمان میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔امیر صاحب لائبیریا کہتے ہیں کہ دسمبر میں ہماری تبلیغی ٹیم ایک گاؤں سوکر ٹاؤن ( Sookar Town) پہنچی۔یہ گاؤں منروویا(Monrovia) شہر سے فاصلے کے لحاظ سے زیادہ دور نہیں ہے لیکن موجودہ دور کی سہولیات سے بالکل محروم ہے۔راستہ بھی دشوار گزار ہے اور وہاں پہنچنے کے لئے تین منکی برجز (monkey bridges) یعنی رسیوں اور لکڑی سے بنائے گئے عارضی پل ہیں ان میں سے گزرنا پڑتا ہے۔نمازوں