خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 95
خطبات مسرور جلد 17 95 خطبه جمعه فرمودہ مور محد 15 فروری 2019 ہمیں یہ زیب نہیں دیتا کہ ہم اب فخر و مباح سے کام لیں اور دینی خدمات کے بدلے میں ایسے اجر کے طالب ہوں جس میں دنیا طلبی کی بو آتی ہو۔ہماری جزا اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور وہی ہمارے لیے کافی ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قریش میں سے تھے اور وہی لوگ اس خلافت کے حقدار ہیں۔اللہ نہ کرے کہ ہم ان سے جھگڑے میں مبتلا ہوں۔اے انصار ! اللہ تعالیٰ کا تقوی اختیار کرو اور مہاجرین سے اختلاف نہ کرو۔ان سب باتوں کے بعد پھر حضرت حباب بن منذر نے انصار کی اہمیت کا ذکر کرنا شروع کر دیا لیکن حضرت عمرؓ نے پھر صور تحال کو سنبھالا۔میں مختصر قصہ بیان کر رہا ہوں اور حضرت ابو بکر کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا کہ ہماری بیعت لیں اور ساتھ ہی حضرت عمرؓ نے حضرت ابو بکر کی بیعت کر لی اور عرض کی کہ اے ابو بکر ! آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا کہ آپ نماز پڑھایا کریں۔پس آپ ہی خلیفة اللہ ہیں۔ہم آپ کی بیعت اس لیے کرتے ہیں کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم سب سے زیادہ محبوب ہیں۔حضرت عمر کے بعد حضرت ابو عبیدہ بن جراح نے بیعت کی اور پھر انصار میں سے حضرت بشیر بن سعد نے فوراً بیعت کر لی۔اس کے بعد حضرت زید بن ثابت انصاری نے بیعت کی اور حضرت ابو بکر کا ہاتھ تھام کر انصار سے مخاطب ہوئے اور انہیں بھی حضرت ابو بکر کی بیعت کرنے کی ترغیب دی۔چنانچہ انصار نے بھی حضرت ابو بکر کی بیعت کی۔الكامل في التاريخ جلد2 صفحه 193 حديث السقيفة وخلافة ابى بكر وأرضاه مطبوعه دار لكتب العلمية بیروت 2006ء) (السيرة الحلبية جلد3 صفحه 506 باب يذكر فيه مدة مرضه۔۔۔الخ دار الكتب العلمية بيروت 2002ء) یہ بیعت اسلامی لٹریچر میں بیعت سقیفہ اور بیعت خاصہ کے نام سے بھی مشہور ہے۔تاريخ الخلفاء الراشدين از محمد سهیل طقوش صفحه 22،367، مطبوعه دار النفائس بيروت 2011ء) حضرت ابو مسعود انصاری بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم سعد بن عبادہؓ کی مجلس میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے۔حضرت بشیر بن سعد نے آپ کی خدمت میں عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم آپ پر درود بھیجیں تو ہم کس طرح آپ پر درود بھیجیں۔راوی کہتے ہیں اس سوال پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔لمبا عرصہ خاموش رہے۔یہاں تک کہ ہم نے خواہش کی کہ کاش وہ آپ سے سوال نہ کرتا۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ کہا کرو کہ : اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ وَ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَّعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيْمَ فِى الْعَالَمِيْنَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيْدٌ۔اور سلام اس طرح جیسا کہ تم جانتے ہو کس طرح سلام کرنا ہے۔(صحیح مسلم کتاب الصلاة باب الصلاة على النبى يا الله بعد التشهد حديث 907) اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَ بَارِكْ وَ سَلِّمْ إِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ اب آج کے ان صحابہ کا یہ ذکر ختم ہوتا ہے۔ایک دعا کے لیے میں کہنا چاہتا ہوں گزشتہ دنوں بنگلہ دیش میں جلسہ کے انتظامات ہو رہے تھے لیکن وہاں نئی جگہ جلسہ کرنا تھا۔احمد نگر ان کا ایک شہر ہے ، علماء نے (نام نہاد علماء کہنا چاہیے ) اور مخالفین نے بہت زیادہ شور مچایا۔حکومت سے پہلے مطالبہ کرتے رہے جلسہ روکیں اور جب حکومت