سنن ابن ماجہ (جلد اوّل) — Page 375
سنن ابن ماجه جلد اول 375 كتاب الاذان والسنة فيها ہے ( پھر عبد اللہ بن زید کو ارشاد فرمایا ) تم بلال کے ساتھ مسجد جاؤ اور اُسے یہ ( كلمات ) بتاتے جاؤ اور وہ ان کو بلند آواز سے پکاریں کیونکہ تمہاری نسبت وہ زیادہ بلند آواز والے ہیں۔انہوں ( حضرت عبد اللہ بن زید ) نے کہا کہ میں بلال کے ساتھ مسجد کی طرف گیا اور میں انہیں یہ ( کلمات ) بتاتا جاتا اور وہ انہیں بلند آواز کے ساتھ پکارتے جاتے۔حضرت عمر بن خطاب نے یہ آواز سنی۔وہ باہر تشریف لائے اور انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! خدا کی قسم میں نے بھی خواب میں وہی دیکھا جو اُنہوں نے دیکھا۔(راوی) ابو عبید نے کہا مجھے راوی ابوبکر حکمی نے خبر دی که حضرت عبد اللہ بن زید انصاری نے اس ضمن میں اپنے اشعار کہے: أَحْمَدُ اللهَ ذَا الْجَلَالِ وَذَا الْإِكْرَامِ میں جلال اور عزت والے اللہ کی اذان سکھلانے حَمْدًا عَلَى الْأَذَانِ كَثِيرًا پر بہت تعریف کرتا ہوں ، جب کہ میرے پاس إِذْ أَتَانِي بِهِ الْبَشِيرُ مِنَ اللَّهِ اللہ کی طرف سے بشارت دینے والا یہ (اذان) فَأَكْرِمْ بِهِ لَدَيَّ بَشِيرًا لے کر آیا۔کیا ہی معزز ہے وہ بشارت دینے والا لَيَالٍ وَالَى بِهِنَّ ثَلَاثِ اور وہ میرے پاس ان کو متواتر تین راتیں لاتا جاءَ زَادَنِي تَوْقِيرًا رہا اور جب بھی آیا مجھے عزت میں بڑھایا 707: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ :707 سالم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ الْوَاسِطِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نبی ﷺ نے نماز کے لئے جو فکر در پیش تھی اس بارہ في كُلِّمَا 707 اطراف ابن ماجه کتاب الصلاة باب بدء الاذان 706 کتاب تخریج : بخاری کتاب الاذان باب بده الاذان 604 باب الاذان مثنى مثنی 605 606 کتاب احادیث النبياء باب ما ذكر عن بني اسرائیل 3457 مسلم كتاب الصلاة باب بدء الاذان 560 ترمذى كتاب الصلاة باب ما جاء في بدء الاذان 189 نسائي كـ الاذان باب بدء الأذان 626 أبوداؤ د كتاب الصلاة باب بدء الاذان 498 باب كيف الاذان 499