سنن ابن ماجہ (جلد اوّل)

Page 373 of 504

سنن ابن ماجہ (جلد اوّل) — Page 373

سنن ابن ماجه جلد اول 373 بات الحالي كتاب الاذان والسنة فيها کتاب: اَلْآذَانُ وَالسُّنَّةُ فِيهَا کتاب : اذان اور اس کے بارے میں سنت 1: بَابِ : بَدْءُ الْأَذَانِ باب: اذان کی ابتداء 706 : حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُبيد بن 706 محمد بن عبد اللہ بن زید اپنے والد سے روایت مَيْمُونِ الْمَدَنِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ علی الْحَرَّانِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ حَدَّثَنَا نے ( نماز کے بلانے کے لئے ) بگل کا سوچا ، پھر 2 مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ عَنْ مُحَمَّد بن ناقوس کا ارشاد فرمایا ، پس وہ تراشا گیا۔پھر عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ حضرت عبداللہ بن زید کو خواب دکھائی گئی انہوں نے الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ هَمَّ بِالْبُوقِ بتایا میں نے خواب میں ایک آدمی دیکھا۔اُس پر دو وَأَمَرَ بالنَّاقُوس فَتَحتَ فَأُرِيَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سبز کپڑے تھے اور وہ آدمی ناقوس اٹھائے ہوئے تھا زَيْدِ فِي الْمَنَامِ قَالَ رَأَيْتُ رَجُلًا عَلَيْهِ ثَوْبَانِ۔میں نے اُس کو ( خواب میں ہی ) کہا اے اللہ کے أَحْضَرَان يَحْمِلُ نَاقُوسًا فَقُلْتُ لَهُ يَا عَبْدَ بندے تم یہ ناقوس فروخت کرو گے؟ اُس نے کہا تم الله تبيعُ النَّاقُوسَ قَالَ وَمَا تَصْنَعُ بِهِ قُلْتُ اس سے کیا کرو گے؟ میں نے کہا کہ میں اس کے أُنادي به إلَى الصَّلَاةِ قَالَ أَفَلَا أَدُلُّكَ عَلَى ذریعہ نماز کیلئے بلایا کروں گا۔اُس نے کہا کیا میں خَيْرِ مِنْ ذَلِكَ قُلْتُ وَمَا هُوَ قَالَ تَقُولُ اللهُ تجھے اس سے بہتر طریق نہ بتاؤں؟ میں نے کہا وہ کیا 1 ناقوس گھنٹی کو بھی کہتے ہیں۔(منجد) 2 : بخاری کے مطابق بوق اور ناقوس کے استعمال کا مشورہ صحابہ نے دیا تھا۔( بخاری کتاب الاذان باب بدء الاذان ) 706: اطراف ابن ماجه کتاب الصلاة باب بدء الاذان 707 تخريج : بخاری کتاب الاذان باب بدء الاذان 604 باب الأذان مثنى منى 605، 606 كتاب احاديث النبياء باب ما ذكر عن بني اسرائیل 3457 مسلم كتاب الصلاة باب بدء الاذان 560 ترمذى كتاب الصلاة باب ما جاء في بدء الاذان 189 نسائی کتاب الاذان باب بدء الاذان 626 أبوداؤ د كتاب الصلاة باب بدء الاذان 498 باب كيف الاذان 499