صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 318
صحیح البخاری جلد ۹ ۳۱۸ ۶۴ - کتاب المغازی بَاب ۸۰ : نُزُولُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحِجْرَ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حجر مقام میں نزول ٤٤١٩ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ :۴۴۱۹ : عبد اللہ بن محمد جعفی نے ہمیں بتایا کہ الْجُعْفِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا عبد الرزاق نے ہم سے بیان کیا کہ معمر نے ہمیں تم عبد الله ) مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ بتایا۔ انہوں نے زہری سے، زُہری نے سالم عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَمَّا مَرَّ بن عبد الله ) سے، سالم نے (حضرت عبد الل النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحِجْرِ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے قَالَ لَا تَدْخُلُوا مَسَاكِنَ الَّذِينَ کہا: جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم حجر کے پاس سے ظَلَمُوْا أَنْفُسَهُمْ أَنْ يُصِيبَكُمْ مَّا گزرے تو آپؐ نے فرمایا: تم اُن لوگوں کی بستیوں میں مت داخل ہو جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم أَصَابَهُمْ إِلَّا أَنْ تَكُوْنُوْا بَاكِينَ ثُمَّ کیا تھا مبادا تمہیں وہی عذاب پہنچے جو انہیں پہنچا قَنَّعَ رَأْسَهُ وَأَسْرَعَ السَّيْرَ حَتَّى أَجَازَ تھا؟ سوائے اس کے کہ تم روتے ہوئے جاؤ۔ اس الْوَادِي۔ کے بعد آپ نے اپنا سر ڈھانپ لیا اور رفتار تیز کر دی یہاں تک کہ وادی سے پار ہو گئے۔ اطرافه ٤٣٣، ۳۳۸۰ ، ۳۳۸۱، ٤٤٢٠، ٤٧٠٢۔ ٤٤٢٠ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْن بُكَيْرٍ ۴۴۲۰ : يحي بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبداللہ بن دینار عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ سے روایت کی، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللہ عنہما سے روایت کی ۔ ا ما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ لِأَصْحَابِ الْحِجْرِ لَا تَدْخُلُوا عَلَى صلى اللہ علیہ وسلم نے حجر والوں کی نسبت فرمایا: هَؤُلَاءِ الْمُعَذِّبِينَ إِلَّا أَنْ تَكُونُوا تم ان کے پاس نہ جاؤ جنہیں سزادی گئی، سوائے بَاكِيْنَ أَنْ تُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ۔ اس کے کہ تم گریہ و زاری کرتے جاؤ، مبادا تمہیں وہی عذاب پہنچے جو انہیں پہنچا۔ اطرافه ۴۳۳، ۳۳۸۰ ، ۳۳۸۱، ٤٤١٩ ، ٤٧٠٢۔