صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 317
صحیح البخاری جلد ۹ ۳۱۷ ۶۴ - کتاب المغازی أَمْرَنَا عَمَّنْ حَلَفَ لَهُ وَاعْتَذَرَ إِلَيْهِ فیصلے میں ہمیں ان لوگوں سے پیچھے رکھنا مراد ہے کہ فَقَبِلَ مِنْهُ۔ جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قسمیں کھائیں تھیں اور آپ کے پاس معذرتیں کی تھیں اور آپ نے ان کی معذرت قبول کر لی تھی۔ اطرافه ٢٧٥٧ ، ٢٩٤٧ ، ۲۹٤٨، ۲۹۴۹ ، ۲۹۵۰، ۳۰۸۸ ، ۳٥٥٦ ، ۳۸۸۹ ، ۳۹۵۱، ٤٦٧٣، ٤٦٧٦، - ٤٦٧٧، ٤٦٧٨، ٦٢٥٥ ، ٦٦٩٠ ٧٢٢٥ تشریح : حَدِيثُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ : اس باب میں حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کا واقعہ ان کے پوتے عبد الرحمن کی زبان سے مفصل درج ہے۔ جب انہوں نے اپنے باپ عبد اللہ بن کعب سے سنا تھا۔ اس روایت کے ایک حصہ کی شرح قِصَّةُ غَزْوَةِ بَدْر کی شرح میں گزر چکی ہے۔ دیکھئے کتاب المغازی روایت نمبر ۳۹۵۱۔ ان کا بیان إِنَّمَا خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ عِيْرَ قُرَيْشٍ ان کے بیان وَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ غَزْوَةً إِلَّا وَزَى بِغَيْرِھا کی روشنی میں سمجھا جائے۔ یہ امر غزوہ بدر کی شرح میں واضح کیا جا چکا ہے ۔ حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ ان صحابہ میں سے تھے جنہوں نے سچائی سے اپنی غلطی کا صاف الفاظ میں اقرار کیا اور تا فیصلہ الہی ان سے بول چال اور تعلق رکھنے کی ممانعت کی گئی اور جنہوں نے قسم کھا کر اپنے عذر بیان کئے تھے ان سے چشم پوشی کی گئی اور انہیں معاف کیا گیا۔ اس واقعہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلق کریم کے دو پہلو واضح ہوتے ہیں۔ ضعیف الایمان طبقہ کی اصلاح نرمی اور درگزر سے اور قومی الایمان طبقہ کا تزکیہ نفس تعزیری کارروائی سے جو قومی اخلاق و کردار کی اعلیٰ تربیت کا باعث ہوئی۔ دنیا کا طریق عمل بالعموم اس سے برعکس ہے۔ ارباب جاہ و منصب اور ذی ثروت و دولت مواخذہ سے نظر انداز کئے جاتے ہیں اور کمزور اور کمزور لوگ پکڑے جاتے ہیں۔ قرآنِ مجید نے لونڈی اور غلام کی سزا آزاد سے نصف رکھی ہے (الأحزاب: ۲۶) اور آنحضرت صلی اللہ علم کی ازواج مطہرات سے فرمایا: اگر تم نے احکام شریعت کا پاس نہ رکھا تو تمہیں دوگنی سزا دی جائے گی۔ (الأحزاب: ۳۱) حَبَسَهُ بُرْدَاهُ وَنَظَرُهُ فِي عِطْفِهِ : یہ کنایہ ہے عیش و عشرت اور ناز حسن سے۔ اور یہ طنزیہ فقرہ تھا۔ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے اسی لیے بُرا مانا اور کہنے والے کو زجر کی۔ أَيُّهَا الثَّلَاثَةُ: ان تین سے خاص طور پر بول چال کی ممانعت کی گئی۔ انباطُ أَهْلِ الشَّامِ : نبطی شام کے سرحدی قبائل اور عیسائی تھے۔ وہ کھیتی باڑی کا کام کرتے تھے۔ کسان کو بھی نبطی کہتے ہیں اور وہ اپنا غلہ مدینہ کی منڈیوں میں فروخت کرنے کے لئے لایا کرتے تھے۔ نبطی کے ذریعہ سے خط بھیجنے والا غسانی ملک جبلہ بن ایم تھا۔ (فتح الباری جزء ۸ صفحه ۱۵۱) روایت مندرجہ صحابہ کرام کے بلند کردار اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اعلیٰ تربیت کی آئینہ دار ہے۔