صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 85
صحیح البخاری جلد ۸ ۸۵ ۶۴ - كتاب المغازي عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ قُلْتُ لِسَالِمٍ ٹھیکہ پر دینے سے روکا ہے۔ زہری نے سالم سے فَتُكْرِيْهَا أَنْتَ قَالَ نَعَمْ إِنَّ رَافِعًا کہا: آپ تو انہیں ٹھیکے پر دیتے ہو؟ انہوں نے أَكْثَرَ عَلَى نَفْسِهِ۔ اطرافه ۲۳۳۹: ۲۳۴۶، ۲۳۴۷ کہا: ہاں (ہم تو دیتے ہیں) حضرت رافع نے اپنے او پر زیادتی کی۔ ٤٠١٤ : حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ۴۰۱۴ : آدم ( بن ابی ایاس ) نے ہم سے بیان کیا کہ عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ حسین بن عبدالرحمن سے سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے عبد اللہ بن شداد بن ہاد بیتی سے سنا۔ وہ لیٹی سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں نے اللَّيْئِيَّ قَالَ رَأَيْتُ رِفَاعَةَ بْنَ رَافِعٍ حضرت رفاعه بن رافع انصاری کو دیکھا اور وہ الْأَنْصَارِيَّ وَكَانَ شَهِدَ بَدْرًا۔ بدری صحابی تھے۔ ٤٠١٥: حَدَّثَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ ۴۰۱۵ : عبدان نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ وَيُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ بن مبارک مروزی) نے ہمیں خبر دی کہ معمر عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ اور یونس نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے، الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَمْرَو زہری نے عروہ بن زبیر سے روایت کی کہ انہوں نے ان کو خبر دی۔ حضرت مسور بن مخرمہ نے ان کو بْنَ عَوْفٍ وَهُوَ حَلِيْفٌ لِبَنِي عَامِرِ بْنِ بتایا کہ حضرت عمرو بن عوف نے جو بنو عامر بن لوئی لُؤَيِّ وَكَانَ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ کے حلیف اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بدر میں شریک تھے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح کو بحرین کی طرف بْنَ الْجَرَّاحِ إِلَى الْبَحْرَيْنِ يَأْتِي بِجِزْيَتِهَا جزیہ لینے کے لئے بھیجا اور رسول اللہ صلی اللہ وَكَانَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ علیہ وسلم نے بحرین والوں سے صلح کی تھی اور ان پر وَسَلَّمَ هُوَ صَالَحَ أَهْلَ الْبَحْرَيْنِ وَأَمَّرَ حضرت علاء بن حضرمی کو امیر مقرر کیا تھا۔ چنانچہ عَلَيْهِمُ الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِي فَقَدِمَ حضرت ابو عبیدہ بحرین سے مال لے کر آئے اور أَبُو عُبَيْدَةَ بِمَالٍ مِنَ الْبَحْرَيْنِ فَسَمِعَتِ انصار نے نے حضرت ابو عبیدہ کے آنے سے متعلق سنا