صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 10
صحيح البخاری جلد ۸ فَيَنْقَلِبُوا خَابِبِينَ ۶۴ - کتاب المغازی کی ہے) کہ تا (اللہ) کافروں کے ایک حصہ کو (آل عمران: ۱۲۴-۱۲۸) کاٹ دے یا انہیں ذلیل کر دے تاکہ وہ ناکام واپس جائیں ورنہ مدد تو (صرف) اللہ ہی کی طرف سے (آتی) ہے جو غالب (اور) حکمت والا ہے۔{ فَوْرِهِمْ : غَضَبِهِمْ } {فَوْرِهِمْ کے معنی ہیں اپنے جوش میں گھولتے ہوئے } وَقَالَ وَحْشِيٌّ قَتَلَ حَمْزَةُ طُعَيْمَةَ اور وحشی بن حرب حبشی ) نے کہا: حضرت حمزہ نے بْنَ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ يَوْمَ بَدْرٍ۔جنگ بدر میں طعیمہ بن عدی بن خیار کو قتل کیا تھا۔وَقَوْلُهُ تَعَالَى: وَإِذْ يَعِدُكُمُ اللهُ اِحدَی اور اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا ذکر : (اے مومنو! الطَّابِفَتَيْنِ اَنَّهَا لَكُمْ وَ تَوَدُّونَ تم اس وقت کو یاد کرو) جبکہ اللہ تعالیٰ تم سے دو ان غَيْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُونُ لَكُمْ گروہوں میں سے ایک کا وعدہ کر تا تھا کہ وہ تم کو دیا جائے گا۔اور تم چاہتے تھے کہ وہ گروہ جس الآية۔(الأنفال:٨) الشَّوْكَةُ : الْحَدُّ } کے پاس ہتھیار نہیں ہیں تم کو ملے۔اور اللہ چاہتا تھا کہ وہ حق کو اپنے احکام کے ذریعہ سے پورا کر دے اور کافروں کی جڑ کاٹ دے۔الشَّوْكَةُ کے معنی ہے دھار دار۔٣٩٥١: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ :۳۹۵۱ یحی بن بکیر نے مجھ سے بیان کیا کہ لیث حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلِ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عقیل سے ، عقیل نے عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبِ ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عبد الرحمن بن أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ كَعْبِ قَالَ سَمِعْتُ عبد الله بن کعب سے روایت کی کہ عبد اللہ بن كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ کعب نے کہا: میں نے حضرت کعب بن مالک لَمْ أَتَخَلَّفْ عَنْ رَّسُولِ اللهِ صَلَّى الله رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے : میں کسی غزوہ میں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا إِلَّا فِي جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا پیچھے نہیں رہا غَزْوَةِ تَبُوْكَ غَيْرَ أَنِّي تَخَلَّفْتُ عَنْ سوائے غزوہ تبوک کے ، اور غزوہ بدر میں جو میں یہ الفاظ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں۔(فتح الباری جزءے حاشیہ صفحہ ۳۵۵)