صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 293
صحیح البخاری جلد ۸ ۲۹۳ ۶۴ - کتاب المغازی فَجَاءَ أُولَئِكَ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً ثُمَّ اپنے ساتھیوں کی جگہ پر کھڑا ہو گیا۔وہ آئے اور سَلَّمَ عَلَيْهِمْ ثُمَّ قَامَ هَؤُلَاءِ فَقَضَوْا آپ نے ان کو ایک رکعت پڑھائی۔پھر سلام رَكْعَتَهُمْ وَقَامَ هَؤُلَاءِ فَقَضَوْا رَكْعَتَهُمْ پھیرا۔اس کے بعد یہ لوگ کھڑے ہوئے اور انہوں نے ایک رکعت پوری کی اور پھر دوسرے کھڑے ہوئے اور اپنی رکعت انہوں نے پوری کی۔اطرافه: ۹۴۲، ۹۴۳، ۴۱۳۲، ۴۵۳۵ ٤١٣٤: حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ حَدَّثَنَا :۴۱۳۴ ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي ( بن ابی حمزہ) نے ہمیں بتایا کہ زہری سے مروی سِنَانٌ وَأَبُو سَلَمَةَ أَنَّ جَابِرًا أَخْبَرَ أَنَّهُ ہے۔انہوں نے کہا: سنان بن ابی سنان) اور غَزَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ابو سلمہ بن عبد الرحمن) نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت جابر نے (ان کو) بتایا: انہوں نے وَسَلَّمَ قِبَلَ نَجْدٍ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد کی رض طرف چڑھائی کی۔اطرافه ۲۹۱۰، ۲۹۱۳، ۴۱۳۵، ۴۱۳۶ ٤١٣٥ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيْلُ حَدَّثَنِي :۴۱۳۵ اسماعیل بن ابی اولیس) نے ہم سے بیان أَخِي عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ مُّحَمَّدِ بْنِ کیا، کہا : ) میرے بھائی (عبد الحمید ) نے مجھے بتایا۔أَبِي عَتِيقٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سِنَانِ انہوں نے سلیمان (بن بلال) سے، سلیمان نے بْنِ أَبِي سِنَانِ الدُّوَلِيَ عَنْ جَابِرِ بْنِ محمد بن ابی عتیق سے ، انہوں نے ابن شہاب سے ، اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ أَنَّهُ ابن شہاب نے سنان بن ابی سنان دولی سے ، انہوں عَبْدِ اللهِ اللَّهِ رَضِيَ نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے غَزَا مَعَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ روایت کی کہ انہوں نے ان کو خبر دی کہ وہ وَسَلَّمَ قِبَلَ نَجْدٍ فَلَمَّا قَفَلَ رَسُوْلُ اللهِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد کی طرف صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَفَلَ مَعَهُ ایک غزوہ میں گئے۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فَأَدْرَكَتْهُمُ الْقَائِلَةُ فِي وَادٍ كَثِيْرِ الْعِضَاءِ لَوٹے تو وہ بھی ان کے ساتھ لوٹے۔آپ کو اتفاق فَنَزَلَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے دوپہر کا وقت ایسی وادی میں آیا جہاں کانٹے دار وَتَفَرَّقَ النَّاسُ فِى الْعِضَاءِ يَسْتَظِلُوْنَ درخت بہت تھے۔رسول اللہ صلی للی کام اتر پڑے اور