صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 42
صحیح البخاری جلد ۶۱ - كتاب المناقب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ سے، ایوب نے محمد بن سیرین) سے، انہوں قَالَ أَسْلَمُ وَغِفَارُ وَشَيْءٌ مِنْ مُّزَيْنَةَ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت وَجُهَيْئَةَ أَوْ قَالَ شَيْءٍ مِنْ جُهَيْئَةَ أَوْ کی۔انہوں نے کہا: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مُزَيْنَةَ خَيْرٌ عِنْدَ اللهِ أَوْ قَالَ يَوْمَ نے فرمایا: اسلم اور غفار ، مزینہ اور جہینہ میں سے بعض لوگ یا فرمایا: جہینہ میں سے یا مزینہ میں الْقِيَامَةِ مِنْ أَسَدٍ وَتَمِيمٍ وَهَوَازِنَ سے کچھ لوگ اللہ کے نزدیک بہتر ہوں، یا فرمایا: وَغَطَفَانَ۔(اللہ کے نزدیک قیامت کے دن بہتر ہوں اسد ، تمیم ، ہوازن اور غطفان سے۔٣٥٢٤ : حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا :۳۵۲۴ ابو نعمان نے ہم سے بیان کیا کہ ابو عوانہ أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشَرِ عَنْ سَعِيْدِ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابو بشر سے ، ابو بشر نے بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ إِذَا سَرَّكَ أَنْ تَعْلَمَ جَهْلَ سعید بن جبیر سے ، سعید نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: اگر تم یہ معلوم کرنا چاہتے ہو کہ عرب کس قدر الْعَرَبِ فَاقْرَأْ مَا فَوْقَ الثَّلَاثِيْنَ وَمِائَةٍ جاہل تھے تو سورہ انعام کی ایک سو تیں آیتوں مِنْ سُوْرَةِ الْأَنْعَامِ قَد خَسِرَ الَّذِينَ کے بعد پڑھو: وہ لوگ جنہوں نے اپنی اولاد کو قَتَلُوا أَوْلَادَهُم سَفَهَا بِغَيْرِ عِلْمٍ إِلَى بے وقوفی سے بغیر علم کے قتل کر دیا ہے اور جو قَوْلِهِ قَدْ ضَلُّوا وَمَا كَانُوا مُهْتَدِينَ کچھ اللہ نے انہیں دیا تھا اسے اللہ پر افتراء کرتے (الانعام: ١٤١) ہوئے (اپنے پر) حرام کر لیا ہے۔وہ گھاٹا پانے والے ہو گئے ہیں اور گمراہ ہو گئے ہیں اور وہ ہدایت پانے والوں میں سے نہیں ( بنے۔) بَاب ۱۳ : مَنِ انْتَسَبَ إِلَى آبَائِهِ فِي الْإِسْلَامِ وَالْجَاهِلِيَّةِ اسلام اور جاہلیت میں جو اپنے دادوں کی طرف منسوب ہو وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ وَأَبُو هُرَيْرَةَ عَن النَّبِي اور حضرت ابن عمرؓ اور حضرت ابوہریرۃ نے