صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 41 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 41

صحیح البخاری جلد ام ۶۱ - كتاب المناقب عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ فَقَالُوْا قُومُوْا إِلَى هَذَا قریش بھی وہاں تھے تو انہوں نے کہا: اے قریش الصَّابِئِ فَقَامُوْا فَضْرِبْتُ لِأُمُوْتَ کے لوگو! میں یہ اقرار کرتا ہوں کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور یہ بھی اقرار کرتا ہوں کہ محمدم فَأَدْرَكَنِي الْعَبَّاسُ فَأَكَبَّ عَلَيَّ ثُمَّ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔یہ سنتے ہی أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ وَيْلَكُمْ تَقْتُلُوْنَ انہوں نے کہا: اٹھو اس بے دین کو پکڑو۔وہ اُٹھے رَجُلًا مِنْ غِفَارَ وَمَتَجَرُكُمْ وَمَمَرُكُمْ اور مجھے اتنا پیٹا گیا کہ میں مرنے کو تھا۔اتنے میں عَلَى غِفَارَ فَأَقْلَعُوْا عَنِّي فَلَمَّا أَنْ حضرت عباس (آنحضرت کے چا) میرے پاس وقت پر آپہنچے اور وہ آکر مجھ پر اوندھے جھکے اور أَصْبَحْتُ الْغَدَ رَجَعْتُ فَقُلْتُ مِثْلَ مَا پھر ان لوگوں سے متوجہ ہوئے اور کہنے لگے: تمہارا : قُلْتُ بِالْأَمْسِ فَقَالُوْا قَوْمُوْا إِلَى هَذَا ستیاناس کیا غفار کی قوم سے ایک شخص کو مارتے ہو الصَّابِئِ فَصُنِعَ بِي مِثْلَ مَا صُنِعَ حالانکہ تمہاری تجارت کا اور تمہارے آنے جانے کا بِالْأَمْسِ وَأَدْرَكَنِي الْعَبَّاسُ فَأَكَبَ راستہ غفار کے پاس سے گذرتا ہے۔یہ سن کر وہ مجھ سے ہٹ گئے۔جب میں دوسرے دن صبح اُٹھا، میں الله۔عَلَيَّ وَقَالَ مِثْلَ مَقَالَتِهِ بِالْأَمْسِ قَالَ پھر گیا اور میں نے ویسے ہی کہا جو میں نے کل کہا تھا۔فَكَانَ هَذَا أَوَّلَ إِسْلَامِ أَبِي ذَرٍ رَحِمَهُ وہ کہنے لگے : اُٹھو اس بے دین کو پکڑو اور میری وہی گت بنائی گئی جوگت میری کل بنائی گئی تھی اور حضرت عباس میرے پاس (وقت پر) آپہنچے اور وہ آکر مجھے پر اوندھے جھکے اور انہوں نے وہی کہا جو کل کہا تھا۔حضرت ابن عباس کہتے تھے: تو حضرت ابوذر اس طرح پہلے مسلمان ہوئے۔اللہ ان پر رحم کرے۔طرفه: ۳۸۶۱ باب ۱۲: قِصَّةُ زَمْزَمَ وَجَهْلُ الْعَرَبِ زمزم کا واقعہ اور عربوں کی جہالت :٣٥٢٣ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبِ :۳۵۲۳ سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا۔حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُّحَمَّدٍ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ایوب