صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 35 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 35

صحیح البخاری جلد ۳۵ ۶۱ - كتاب المناقب تعلق رونے پیٹنے اور بین کرنے سے ہے اور یہاں جاہلیت کی پکار کا جو عنوان ہے اس سے مراد قبیلہ کے نام کی غیرت دلا کر دوسرے قبیلہ کے خلاف اکسانا، طیش دلانا اور مدد کے لئے بلانا ہے۔اسلام میں یہ بھی منع ہے۔پہلی روایت میں جو واقعہ مذکور ہے اس کا تعلق غزوۃ المریسیع سے ہے۔اس غزوہ کا دوسرانام غزوہ بنی مصطلق ہے۔مریسیع مقام پر بنو مصطلق سے جھڑپ ہوئی تھی۔ایک انصاری اور مہاجر کے درمیان کھیل میں ایک دوسرے کے ساتھ چپقلش ہوئی۔مہاجر کا نام جہجاہ بن قیس تھا جو حضرت عمر بن خطاب کے اجیر ( مزدوری پر کام کرنے والے) تھے اور انصاری کا نام سنان بن وبرہ تھا جو بنو سالم خزرجی کے حلیف تھے۔مہاجر نے کھیلتے کھیلتے ان کے سرین پر لکڑی رسید کی جس سے بدمزگی پیدا ہوئی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے معاملہ رفع دفع کر دیا۔(فتح الباری جزء4 صفحہ ۲۶۸) عبداللہ بن اُبی بن سلول رئیس المنافقین نے اس واقعہ سے ناجائز فائدہ اُٹھانے کی کوشش کی اور مذکورہ بالا ھمکی دی جس کا ذکر سورۃ المنافقون آیت 9 میں بھی ہے تفصیلی ذکر کتاب المغازی باب ۳۲ نیز کتاب التفسیر، سورۃ المنافقین باب ۷٫۵ میں آئے گا۔عنوان باب مقید ہے یعنی مدد حاصل کرنے کے لئے ہر پکار ممنوع نہیں بلکہ وہی پکار ناجائز ہے جو جہالت پر مبنی ہو اور جس میں ظالم و مظلوم کے درمیان تمیز نہ کی جائے۔محض قومی تعصب اور اپنے لوگوں کی طرف داری مقصود ہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: انضر أَخَاكَ ظَالِعاً أَو مَظْلُومًا - اپنے بھائی کی مدد کر ظالم ہو یا مظلوم۔صحابہ نے عرض کیا: مظلوم کی مدد کرنے کے متعلق تو حضور کا ارشاد سمجھ میں آجاتا ہے لیکن اس بات کی وضاحت کی ضرورت ہے کہ ظالم کی مدد کس طرح کی جائے۔فرمایا: اگر وہ ظالم ہے تو اسے ظلم سے روکے۔اس میں اس ظالم کی مدد ہو گی۔(بخاری، کتاب الاکراه، باب ۷ ، روایت نمبر ۶۹۵۲) بَاب ۹: قِصَّةُ خُزَاعَةَ خزاعہ کا ذکر ٣٥٢٠ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ :۳۵۲۰ اسحاق بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ كه يحي بن آدم نے ہمیں بتایا کہ اسرائیل نے ہمیں خبر دی۔انہوں نے ابو حصین سے، ابو حصین عَنْ أَبِي حَصِيْنٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ نے ابو صالح سے ، ابو صالح نے حضرت ابوہریرہ أَبِي هُرَيْرَةَ اللهِ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ ﷺ قَالَ عَمْرُو بْنُ لُحَيِّ بْنِ قَمَعَةَ علیہ وسلم نے فرمایا: عمرو بن لحي بن قمعه بن خِنْدِفَ أَبُو خُزَاعَةَ۔خندف خزاعہ کا باپ تھا۔