صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 33 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 33

صحیح البخاری جلد ۳۳ بَاب : مَا يُنْهَى مِنْ دَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ زمانہ جاہلیت کی دہائی اور پکار جو منع ہے غَزَوْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ۶۱ - كتاب المناقب ٣٥١٨ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ أَخْبَرَنَا :۳۵۱۸ محمد بن سلام) نے ہم سے بیان کیا کہ مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ مخلد بن یزید نے ہمیں بتایا کہ ابن جریج نے ہمیں قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّهُ خبر دی۔انہوں نے کہا کہ عمرو بن دینار نے مجھے سَمِعَ جَابِرًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ بتایا کہ انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا۔وہ کہتے تھے : نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم حملے میں نکلے اور مہاجرین میں سے کچھ لوگ وَسَلَّمَ وَقَدْ تَابَ مَعَهُ نَاسٌ مِنَ آپ کے پاس اِدھر اُدھر سے اکٹھے ہو گئے یہاں الْمُهَاجِرِيْنَ حَتَّى كَفُرُوا وَكَانَ مِنَ تک کہ وہ بہت ہو گئے اور مہاجرین میں ایک الْمُهَاجِرِيْنَ رَجُلٌ لَعَابٌ فَكَسَعَ شخص بڑا کھلاڑی تھا۔اس نے ایک انصاری کے أَنْصَارِيًّا فَغَضِبَ الْأَنْصَارِيُّ غَضَبًا سرین پر ضرب لگائی۔وہ انصاری بر افروختہ ہوا شَدِيْدًا حَتَّى تَدَاعَوْا وَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ انہوں نے اپنے اپنے يَا لَلْأَنْصَارِ وَقَالَ الْمُهَاجِرِيُّ يَا آدمیوں کو پکارنا شروع کیا۔انصاری نے کہا: لَلْمُهَاجِرِيْنَ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ اے انصار ! دُہائی، پہنچنا۔اور مہاجر نے کہا: اے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا بَالُ دَعْوَى مہاجرین! دُہائی، پہنچنا۔یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ ! وسلم آئے اور فرمایا: یہ زمانہ جاہلیت کے لوگوں کی أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ ثُمَّ قَالَ مَا شَأْنُهُمْ کیا بہائی پکار ہے؟ پھر آپ نے فرمایا: ان لوگوں فَأُخْبِرَ بِكَسْعَةِ الْمُهَاجِرِيَ الْأَنْصَارِيَّ کو کیا ہوا ہے ؟ تو آپ کو بتایا گیا کہ ایک مہاجر نے قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ انصاری کے سرین پر ضرب لگائی ہے۔حضرت وَسَلَّمَ دَعُوْهَا فَإِنَّهَا خَبِيْثَةٌ۔وَقَالَ جا کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيَ ابْنُ سَلُوْلَ أَقَدْ جاہلیت کی ان باتوں کو چھوڑ دو کیونکہ وہ ناپاک تَدَاعَوْا عَلَيْنَا لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ ہیں؛ اور عبد اللہ بن اُبی بن سلول نے کہا: کیا وہ