صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 382
صحیح البخاری جلدی ۳۸۲ ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار پانی لیا اور اس سے میرا منہ اور میرا سر پونچھا۔ پھر تُرِيدُ بي فَأَخَذَتْ بِيَدِي حَتَّى أَوْقَفَتْنِي گئی۔ مجھے پتہ نہ تھا کہ مجھ سے کیا چاہتی ہیں۔ عَلَى بَابِ الدَّارِ وَإِنِّي لَأُنْهِجُ حَتَّى انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور لے جاکر مجھے گھیر کے سَكَنَ بَعْضُ نَفَسِي ثُمَّ أَخَذَتْ شَيْئًا دروازے پر کھڑا کر دیا اور میں ہانپ رہی تھی۔ جب میرا سانس کچھ ٹھہرا تو پھر میری ماں نے کچھ مِّنْ مَّاءٍ فَمَسَحَتْ بِهِ وَجْهِي وَرَأْسِي ثُمَّ أَدْخَلَتْنِي الدَّارَ فَإِذَا نِسْوَةٌ مِّنَ مجھے گھر کے اندر لے گئیں۔ تو کیا دیکھتی ہوں کہ الْأَنْصَارِ فِي الْبَيْتِ فَقُلْنَ عَلَى کمرہ میں کچھ انصار کی عورتیں ہیں۔ انہوں نے الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ وَعَلَى خَيْرِ طَائِرِ کہا: خیر و برکت ہو اور اچھا نصیب ہو۔ میری ماں فَأَسْلَمَتْنِي إِلَيْهِنَّ فَأَصْلَحْنَ مِنْ شَأْنِي نے مجھ کو ان کے سپرد کر دیا۔ انہوں نے میرا فَلَمْ يَرُعْنِي إِلَّا رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ سنگھار کیا۔ پھر چاشت کے وقت رسول اللہ صلی اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضُحًى فَأَسْلَمَتْنِي إِلَيْهِ علیہ وسلم اچانک آگئے جس سے میں کچھ گھبرا گئی۔ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ۔ میری ماں نے مجھے آپ کے سپرد کر دیا اور اس اطرافه ۳۸۹۶، ۵۱۳۳، ۵۱۳۴، ۵۱۵۶، ۵۱۵۸، ۵۱۶۰ ٣٨٩٥ وقت میری عمر نو سال تھی۔ ۳۸۹ : حَدَّثَنَا مُعَلَّى حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ۳۸۹۵: معلی ( بن اسد) نے ہم سے بیان کیا۔ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ (انہوں نے کہا:) وہیب (بن خالد ) نے ہمیں عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ بتایا۔ انہوں نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا اپنے باپ سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ، أُرِيْتُكِ فِي الْمَنَامِ مَرَّتَيْنِ أَرَى أَنَّكِ ان سے فرمایا: خواب میں دو دفعہ تم مجھے دکھائی فِي سَرَقَةٍ مِنْ حَرِيْرٍ وَيَقُوْلُ هَذِهِ گئی تھی۔ میں دیکھتا ہوں کہ تم ریشمی کپڑے کے امْرَأَتُكَ فَاكْشِفْ { عَنْهَا } فَإِذَا هِيَ ایک ٹکڑے میں ہو اور کوئی کہتا ہے: یہ تمہاری أَنْتِ {فَأَقُولُ } إِنْ يَكُ هَذَا مِنْ بیوی ہے اسے} کھول کر دیکھو۔ تو کیا دیکھتا ہوں ا 1) یہ الفاظ عمدۃ القاری کے مطابق ہیں۔ (عمدۃ القاری جزء ۷ ۱ صفحه ۳۵)