صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 25
صحیح البخاری جلد ۲۵ ۶۱ - كتاب المناقب أَوْ يُرِيَ عَيْنَهُ مَا لَمْ تَرَ أَوْ يَقُوْلَ سوا کسی اور کی طرف منسوب ہو یا اپنی آنکھ کو وہ عَلَى رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کچھ دکھلائے جو اس نے نہیں دیکھا، یا۔رسول اللہ وَسَلَّمَ مَا لَمْ يَقُلْ۔صلی اللہ علیہ وسلم پر افتراء کرے ایسی بات کا جو آپ نے نہیں کہی۔٣٥١٠ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ :۳۵۱۰ مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ حماد نے عَنْ أَبِي جَمْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسِ ہمیں بتایا۔انہوں نے ابو جمرہ سے، انہوں نے اللهُ عَنْهُمَا يَقُوْلُ قَدِمَ وَفْدُ کہا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما رَضِيَ سے سنا۔وہ کہتے تھے: عبد القیس کے نمائندے عَبْدِ الْقَيْس عَلَى رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا يَا رَسُوْلَ اللهِ إِنَّا کہنے لگے: یارسول اللہ ! ہم ربیعہ کے قبیلہ سے هَذَا الْحَيَّ مِنْ رَّبِيعَةَ قَدْ حَالَتْ بَيْنَنَا ہیں۔ہمارے اور آپ کے درمیان مضر کے کفار وَبَيْنَكَ كُفَّارُ مُضَرَ فَلَسْنَا نَخْلُصُ حائل ہیں۔ہم آپ تک سلامتی سے نہیں پہنچ إِلَيْكَ إِلَّا فِي كُلِّ شَهْرٍ حَرَامٍ فَلَوْ سکتے مگر ماہ حرام میں ہی۔اگر آپ ہمیں ایسی بات کا حکم دیں کہ جو ہم آپ سے سیکھ لیں اور ان کو أَمَرْتَنَا بِأَمْرٍ نَأْخُذُهُ عَنْكَ وَنُبَلِّغُهُ مَنْ بھی بتائیں جو ہمارے پیچھے ہیں۔آپ نے فرمایا: وَّرَاءَنَا۔قَالَ آمُرُكُمْ بِأَرْبَعَةٍ وَأَنْهَاكُمْ میں تم کو چار باتیں کرنے کا حکم دیتا ہوں اور چار عَنْ أَرْبَعَةِ الْإِيْمَانِ بِاللَّهِ شَهَادَةِ أَنْ لَّا باتوں سے منع کرتا ہوں۔اللہ پر ایمان لانا یعنی یہ إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيْتَاءِ شہادت دینا کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور الزَّكَاةِ وَأَنْ تُؤَدُّوْا إِلَى اللهِ خُمُسَ مَا نماز سنوار کر پڑھنا اور زکوۃ دینا اور اللہ کے لئے غَنِمْتُمْ وَأَنْهَاكُمْ عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَم اس غنیمت کا پانچواں حصہ ادا کرنا جو تم حاصل کرو اور میں تم کو کدو کے تو نبے اور سبز لاکھی وَالنَّقِيْرِ وَالْمُزَفَّتِ۔برتن اور لکڑی کے کریدے ہوئے برتن اور رال کے روغنی برتن سے منع کرتا ہوں۔اطرافه ۵۳ ، ۸۷، ۵۲۳، ۱۳۹۸ ، ۳۰۹۵ ۴۳۶۸، ۴۳۶۹، ۶۱۷۶، ۷۲۶۶، ۷۵۵۶-