صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 253
صحیح البخاری جلدی ۲۵۳ ۶۲- کتاب فضائل أصحاب النبي صال تَقْدَمِيْنَ عَلَى فَرَطِ صِدْقٍ عَلَی آپ تو ایسی جگہ جائیں گی جہاں آپ کے سچے رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ پیش رو موجود ہیں یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وَعَلَى أَبِي بَكْر ۔ اطرافه: ۴۷۵۳، ۴۷۵۴۔ اور حضرت ابو بکر ۳۷۷۲ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ۳۷۷۲ : محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ غندر حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ نے ہمیں ۔ بتایا۔ شعبہ نے حکم سے سے روایت کرتے سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ قَالَ لَمَّا بَعَثَ ہوئے ہم سے بیان کیا کہ میں نے ابو وائل سے عَلِيٌّ عَمَّارًا وَالْحَسَنَ إِلَى الْكُوفَةِ سنا۔ انہوں نے کہا: جب حضرت علیؓ نے حضرت لِيَسْتَنْفِرَهُمْ خَطَبَ عَمَّارٌ فَقَالَ عمارؓ اور حضرت حسن کو کوفہ کی طرف بھیجا تا إِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّهَا زَوْجَتُهُ فِي الدُّنْيَا لوگوں کو لڑائی کے لئے جمع کریں۔ حضرت عمار لوگوں سے مخاطب ہوئے اور کہا: میں خوب جانتا وَالْآخِرَةِ وَلَكِنَّ اللَّهَ ابْتَلَاكُمْ لِتَتَّبِعُوْهُ ہوں کہ حضرت عائشہ آنحضرت صلی اللہ علم کی زوجہ أَوْ إِيَّاهَا۔ اطرافه : ۷۱۰۰، ۷۱۰۱۔ ہیں، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ مگر بات یہ ہے کہ اللہ نے تمہاری آزمائش کی ہے کہ حضرت علی کی پیروی کرو گے یا حضرت عائشہ کی۔ ۳۷۷۳ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ۳۷۷۳ : عبید بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ ابواسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام سے، أَبِيْهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا ہشام نے اپنے باپ سے ، ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے اسْتَعَارَتْ مِنْ أَسْمَاءَ قِلَادَةً فَهَلَكَتْ حضرت اسماء سے ایک بار مستعار لیا اور وہ گم ہو گیا فَأَرْسَلَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ وَسَلَّمَ نَاسًا مِّنْ أَصْحَابِهِ فِي طَلَبِهَا میں سے کچھ لوگوں کو اس کی تلاش میں بھیجا اور فَأَدْرَكَتْهُمُ الصَّلَاةُ فَصَلَّوْا بِغَيْرِ انہیں نماز کا وقت آگیا تو بغیر وضو کے ہی انہوں وُضُوْءٍ فَلَمَّا أَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ نے نماز پڑھ لی۔ جب وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے