صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 1 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 1

صحيح البخاری جلد ۶ ۵۹ - كتاب بدء الخلق بلد الحالي -٥٩- كِتَابُ بَدْءِ الْخَلق باب ۱ : مَا جَاءَ فِي قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى وَهُوَ الَّذِى يَبْدَوُا الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ اهْوَنُ عَلَيْهِ (الروم: ۲۸) اللہ تعالیٰ نے (سورہ روم میں ) جو فرمایا ہے: وہ وہی خدا ہے جو پیدائش کو شروع کرتا ہے اور پھر اس کو بار بار دہراتا ہے اور یہ اس پر بہت آسان ہے ( یہ باب اس کی تفسیر کے بارے میں ہے ) قَالَ الرَّبِيعُ بْنُ حُتَيْمِ وَالْحَسَنُ ربیع بن خثیم اور حسن (بصری ) نے کہا: اللہ پر ہر بات كُلِّ عَلَيْهِ هَيِّنْ هَيْنَ وَهَيِّنْ مِثْلُ آسان ہے۔هَيِّنٌ اور هَيِّنٌ ، لَيْنٌ اور لَيِّنٌ اور مَيْتٌ لَيْنٍ وَلَيْنِ وَمَيْتٍ وَمَيِّتٍ وَضَيْقٍ اور میت اور ضیق اور ضَيِّق کی طرح ہے اور (سورۃ ق میں آیا ہے: أَفَعَيِينَا بِالْخَلْقِ تو اس کے وَضَيِّقٍ أَفَعَبِيْنَا (ق:١٦) أَفَأَعْيَا عَلَيْنَا معنی یہ ہیں جب ہم نے تم کو پہلے پہل پیدا کیا تو کیا اس حِيْنَ أَنْشَاكُمْ وَأَنْشَأَ خَلْقَكُمْ تُغُوبِ بات نے ہم کو تھکا دیا۔(اسی طرح آتا ہے: وَمَا مَسَّنَا (ق: ٣٩) النَّصَبُ۔أَطْوَارًا (نوح (١٥) مِنْ لُغُوب اور ہم بالکل نہیں تھکے۔اس آیت میں ) طَوْرًا كَذَا وَطَوْرًا كَذَا عَدَا طَوْرَهُ لُغُوبِ کے لفظ کے معنی تھکان کے ہیں۔(سورۃ نوح أَيْ قَدْرَهُ۔میں فرمایا: خَلَقَكُمْ أَطْوَارًا ) أَطْوَارًا کے معنی ہیں: کبھی اس حالت میں کبھی اس حالت میں۔کہتے ہیں : عَدَا طَوْرَهُ کہ وہ اپنی اس حد سے آگے بڑھ گیا جو اس کے لئے مقرر کی گئی تھی۔۳۱۹۰ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ :۳۱۹۰ محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ (ثوری) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے جامع بن شداد عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزِ عَنْ عِمْرَانَ سے، جامع نے صفوان بن محرز سے، صفوان نے