صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 64 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 64

صحيح البخاری جلد ۶ ۶۴ ۵۹- كتاب بدء الخلق رِّجَالِ شَنُوْءَةَ وَرَأَيْتُ عِيْسَى رَجُلًا حضرت موسی کو دیکھا جو گندم گوں بہت لمبے گھونگریالے مَرْبُوْعًا مَرْبُوْعَ الْخَلْقِ إِلَى الْحُمْرَةِ بالوں والے آدمی تھے۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا وہ وَالْبَيَاضِ سَبِطَ الرَّأْس وَرَأَيْتُ مَالِكًا شنوءة کے مردوں میں سے ہیں اور میں نے حضرت خَازِنَ النَّارِ وَالدَّجَّالَ فِي آيَاتِ عیسی کو دیکھا جو میانہ قد میانہ ڈیل ڈول کے آدمی تھے۔أَرَاهُنَّ اللَّهُ إِيَّاهُ، فَلَا تَكُنْ فِي مِرْيَةٍ رنگ سفید سرخی مائل، سر کے بال سیدھے۔اور میں نے مالک کو دیکھا جو دوزخ کا داروغہ ہے اور دجال کو مِنْ لِقَابِهِ (السجدة: ٢٤)۔قَالَ أَنَسٌ بھی دیکھا۔الہی قدرتوں کے نمونوں کو جو اللہ نے آپ وَأَبُو بَكْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله کو دکھائے اور یہ جو اللہ تعالیٰ نے سورہ سجدہ میں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْرُسُ الْمَلَائِكَةُ الْمَدِينَةَ فرمایا ہے: تو اس کی ملاقات سے شک میں نہ ہو۔حضرت انسؓ اور حضرت ابو بکرہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مِنَ الدَّجَّالِ۔طرفه: ٣٣٩٦ تشریح: سے نقل کیا ہے کہ ملائکہ دجال سے مدینہ کی حفاظت کریں گے۔ذِكْرُ الْمَلَائِكَةِ : ابوذر والے نسخہ صحیح بخاری میں اِذَا قَالَ أَحَدُكُمْ آمِينَ۔۔۔۔علیحدہ باب قائم نہیں کیا گیا۔ان روایات میں سے اکثر میں ملکی تمثلات اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ملائکہ اللہ کو مشاہدہ کرنے کا ذکر ہے۔ان مشاہدات کی حقانیت کے بارے میں عین الیقین اور حق الیقین کا مقام اسی وقت حاصل ہو سکتا ہے جب کوئی ان روحانی مشاہدات سے حقیقتا بہرہ ور ہو۔ہمیں ان کی سچائی کے بارے میں ذرہ بھر شک نہیں۔بلکہ کامل یقین حاصل ہے اور جو لوگ اس قسم کے مشاہدات کا نام تخیلات و اوہام ( Hallucinations) یا از قبیل ذہنی تصورات ( Clairvoyance) یا اصوات متصوره (Clairaudience) رکھتے ہیں، ہمارے نزدیک وہ محروم و معذور ہیں۔اگر انہیں تحقیق کرنا مقصود ہو تو وہ تذکرہ ( مجموعہ الہامات سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام) کا مطالعہ کریں۔اس میں نئے نشانات کا واقعات کی صورت میں حیرت انگیز ذکر پائیں گے اور جن کے ہزاروں گواہ ہیں۔شاید یہ مطالعہ ان کے لئے یقین کی راہ کھولنے والا ہو۔سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہوشیار پور والے مشہور مجاہدہ میں جو بشارت پسر موعود سے متعلق کھلے الفاظ میں دی گئی اور جس کی تفصیلات اور متعلقہ واقعات ایک لمبے زمانہ پر ممتد اور مشہور عالم ہو چکے ہیں یہی ایک نشان آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے۔مشار الیہا نشانات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مشاہدات کی صداقت پر تازہ شہادتیں ہیں۔واقعات تخیلات کی تصدیق نہیں کرتے۔اس تعلق میں کتاب بدء الوحي دیکھئے۔نیز الفاظ عنوانِ بابٍ إِذَا قَالَ أَحَدُكُمْ آمِينَ وَالْمَلَائِكَةُ فِي السَّمَاءِ۔۔۔“ کے لیے دیکھئے کتاب الاذان باب ۱۱۱ ۱۱۲۔