صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 61
صحيح البخاری جلد 4 41 ۵۹ - كتاب بدء الخلق عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ مَنْ (بن محمد ) نے ہمیں خبر دی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ زَعَمَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَأَى رَبَّهُ فَقَدْ أَعْظَمَ سے روایت ہے۔وہ کہتی تھیں : جس نے یونہی کہا کہ محمد وَلَكِنْ قَدْ رَأَى جِبْرِيلَ فِى صُورَتِهِ نے اپنے رب کو دیکھا ہے تو اس نے بہت ہی بڑی بات کہی۔البتہ آپ نے جبریل کو ان کی اپنی شکل میں وَخَلْقِهِ سَادًّا مَا بَيْنَ الْأُفُقِ۔دیکھا اور ان کا وجود اُفق کی ساری فضا میں سمایا ہوا تھا۔اطرافه: ۳۲۳۵، ٤٦۱۲، ۱۸٥٥، ۷۳۸۰، ۷۵۳۱ ٣٢٣٥: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ۳۲۳۵: محمد بن یوسف (بیکندی) نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ کیا کہ ابواسامہ نے ہمیں بتایا۔زکریا بن ابی زائدہ نے أَبِي زَائِدَةَ عَنِ ابْنِ الْأَشْوَعِ عَنِ ہمیں بتایا۔انہوں نے ابن اشوع سے، انہوں نے الشَّعْبِي عَنْ مَّسْرُوْقٍ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ ھی سے شعبی نے مسروق سے روایت کی کہ انہوں فَأَيْنَ قَوْلُهُ : ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّى فَكَانَ نے کہا: میں نے حضرت عائشہ سے کہا: تو پھر اللہ تعالیٰ کے اس قول کے کیا معنی ” یہ تمہارا ساتھی پھر اس کے قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنى (النجم: ۱۰،۹) نزدیک ہوا اور وہ بھی نیچے جھکا اور دو کمانوں کے درمیانی قَالَتْ ذَاكَ جِبْرِيلُ كَانَ يَأْتِيْهِ فِي فاصلے جتنا یا اس سے بھی زیادہ نزدیک ہو گیا۔پھر اس صُوْرَةِ الرَّجُلِ وَإِنَّمَا أَتَى هَذِهِ نے اپنے بندے کو وحی کی ، وہی وحی جو اس نے کی۔“ الْمَرَّةَ فِي صُوْرَتِهِ الَّتِي هِيَ صُورَتُهُ حضرت عائشہ نے جواب دیا: یہ تو جبریل ہیں جو آپ فَسَدَّ الْأُفُق۔کے پاس مرد کی شکل میں آیا کرتے تھے اور اس دفعہ وہ اپنی اس شکل میں آئے جو ان کی شکل ہے اور سارے افق میں سمائے ہوئے تھے۔اطرافه ،۳۲۳٤، ٤٦١٢، ٤٨٥٥، ٧٣٨٠، ٧٥٣١ ٣٢٣٦: حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا جَرِيرٌ :۳۲۳۶ موسی (بن اسماعیل ) نے ہم سے بیان کیا۔حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ عَنْ سَمُرَةَ قَالَ قَالَ ( انہوں نے کہا: ) ہم سے جریر بن حازم ) نے بیان النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَيْتُ کیا کہ ابو رجاء نے ہمیں بتایا۔انہوں نے حضرت سمرہ