صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 42
صحيح البخاری جلد ۲ ۴۴ ۵۹ - كتاب بدء الخلق تَرَى مَا لَا أَرَى تُرِيدُ النَّبِيَّ صَلَّى الله برکت ہو۔ آپ دیکھ رہے ہیں جو میں نہیں دیکھ رہی۔ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ اس سے ان کی مراد نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے تھی۔ اطرافه: ٣٧٦٨، ٢٠١، ٦٢٤٩، ٦٢٥٣۔ ۳۲۱۸ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ ۳۲۱۸ : ابو نعیم نے ہمیں بتایا کہ عمر بن ذر نے ہم سے بْنُ ذَرِّ ح۔ قَالَ وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بیان کیا۔ (دوسری سند ) کہا: اور کی بن جعفر نے ہم سے جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ عُمَرَ بْنِ ذَرِّ بیان کیا کہ وکیع نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمر بن ذر عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ سے، انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ سعید بن جبیر سے سعید نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ علیہ وسلم نے جبریل سے فرمایا: آپ ہم سے جو ملنے لِجِبْرِيلَ أَلَا تَزُورُنَا أَكْثَرَ مِمَّا تَزُورُنَا آتے ہیں تو اس سے زیادہ ہمیں کیوں نہیں آ کر ملتے ؟ قَالَ فَنَزَلَتْ : وَمَا نَتَنَزَّلُ إِلَّا بِأَمْرِ حضرت ابن عباس کہتے تھے: اس پر یہ آیت نازل ہوئی: رَبِّكَ لَهُ مَا بَيْنَ أَيْدِينَا وَمَا اور ہم نہیں اترتے مگر تیرے رب ہی کے حکم سے، خَلْفَنَا (مريم: ٦٥) الآية۔ اطرافه: ٤٧٣١، ٧٤٥٥۔ سب اسی کا ہے جو ہمارے سامنے ہے اور جو ہمارے پیچھے ہے اور جو ان کے درمیان ہونے والا ہے۔ ۳۲۱۹: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيْلُ قَالَ حَدَّثَنِي ۳۲۱۹ : اسماعیل ( بن ابی اولیس) نے ہم سے بیان کیا، سُلَيْمَانُ عَنْ يُونُسَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ کہا: مجھے سلیمان (بن بلال) نے بتایا۔ انہوں نے عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ یونس بن یزید ) سے، یونس نے ابن شہاب اب سے، مَسْعُوْدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ الله أَنَّ ابن شہاب نے عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود سے، عبید اللہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أَقْرَأَنِي جِبْرِيلُ عَلَى حَرْفٍ فَلَمْ أَزَلْ جبرائیل نے مجھے قرآن مجید ایک محاورہ پر پڑھایا۔ میں أَسْتَزِيْدُهُ حَتَّى انْتَهَى إِلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ۔ ان سے دوسرے محاورہ پر پڑھانے کے لئے کہتا رہا یہاں تک کہ سات محاوروں تک نوبت پہنچی۔ طرفه: ٤٩٩١۔