صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 38
صحيح البخاری جلد ٦ ۳۸ ۵۹ - كتاب بدء الخلق وَتَابَعَهُ أَبُو عَاصِمٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ اور ( مخلد کی طرح) یہ حدیث ابو عاصم ( نبیل) نے قَالَ أَخْبَرَنِي مُوْسَى بْنُ عُقْبَةَ عَنْ ابن جریج سے روایت کی۔انہوں نے کہا: موسیٰ بن عقبہ نے مجھے بتایا۔انہوں نے نافع سے، نافع نے نَّافِعِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ حضرت ابو ہریرہ سے، حضرت ابوہریرہ نے نبی صلی اللہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَحَبَّ عليہ وسلم سے روایت کی۔آپ نے فرمایا کہ جب اللہ اللَّهُ الْعَبْدَ نَادَى جِبْرِيْلَ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ کسی بندے سے محبت رکھتا ہے تو جبریل کو پکارتا ہے کہ فُلَانًا فَأَحْبِبْهُ فَيُحِبُّهُ جِبْرِيلُ فَيُنَادِي الله فلاں سے محبت رکھتا ہے تم بھی اس سے محبت رکھو۔پھر جبریل بھی اس سے محبت رکھتا ہے اور سارے جِبْرِيلُ فِي أَهْلِ السَّمَاءِ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ آسمان کے فرشتوں میں منادی کر دیتا ہے کہ اللہ فلاں فُلَانَا فَأَحِبُّوْهُ فَيُحِبُّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ شخص سے محبت رکھتا ہے تم بھی اس سے محبت رکھو۔ثُمَّ يُوْضَعُ لَهُ الْقَبُوْلُ فِي الْأَرْضِ پھر آسمان والے بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں۔پھر زمین میں اس کے لئے قبولیت ڈالی جاتی ہے۔اطرافه: ٦٠٤٠، ٧٤٨٥۔۳۲۱۰ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا ابْنُ ۳۲۱۰ : محمد بن اسماعیل) نے ہم سے بیان کیا کہ أَبِي مَرْيَمَ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ حَدَّثَنَا ابْنُ (سعيد) بن ابی مریم نے ہمیں بتایا کہ لیث بن سعد ) نے ہمیں خبر دی کہ (عبید اللہ ) بن ابی جعفر نے ہمیں أَبِي جَعْفَرٍ عَنْ مُّحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ بتایا۔انہوں نے محمد بن عبدالرحمن سے، انہوں نے عروہ بن زبیر سے، عروہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُوْلَ اللهِ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ إِنَّ الْمَلَائِكَةَ فرماتے تھے کہ فرشتے آسمان کی بلندی میں اترتے تَنْزِلُ فِي الْعَنَانِ وَهُوَ السَّحَابُ ہیں۔راوی کے نزدیک لفظ ) عنان بمعنی بادل ہے اور اس حکم کا ذکر کرتے ہیں جس کا فیصلہ آسمان میں فَتَذْكُرُ الْأَمْرَ قُضِيَ فِي السَّمَاءِ ہو چکا ہوتا ہے اور شیطان چپکے سے کان لگا کر سن لیتے فَتَسْتَرِقُ الشَّيَاطِيْنُ السَّمْعَ فَتَسْمَعُهُ ہیں اور وہ اس بات کو کاہنوں تک پہنچا دیتے ہیں اور فَتَوْحِيْهِ إِلَى الْكُهَّانِ فَيَكْذِبُونَ مِنْهَا پھر وہ اس کے ساتھ اپنی طرف سے سو جھوٹی باتیں