صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 39 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 39

صحيح البخاری جلد ۲ ۳۹ ۵۹ - كتاب بدء الخلق مِائَةَ كَذَّبَةٍ مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِهِمْ۔ ملا کر جھوٹ بولتے ہیں۔ اطرافه: ۳۲۸۸، ٥٧٦٢، ٦٢١٣، ٧٥٦١۔ عنہ سے روایت کی۔ ۳۲۱۱: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا ۳۲۱۱ : احمد بن یونس نے ہمیں بتایا کہ ہم سے ابراہیم إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ بن سعد نے بیان کیا کہ ابن شہاب نے ہمیں بتایا۔ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ وَالْأَغَرِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ انہوں نے ابوسلمہ اور (سلمان ) آخر سے، ان دونوں نهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ إِذَا كَانَ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب جمعہ يَوْمُ الْجُمُعَةِ كَانَ عَلَى كُلِّ بَابٍ مِنْ کا دن ہوتا ہے تو مسجد کے دروازوں میں سے ہر ایک أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ الْمَلَائِكَةُ يَكْتُبُوْنَ ے پر فرشتے مقرر ہوتے ہیں جو جو لکھتے ہیں انہیں رضى دروازے الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ فَإِذَا جَلَسَ الْإِمَامُ طَوَوْا جو پہلے آنے والے ہیں۔ جب امام بیٹھ جاتا ہے تو وہ الصُّحُفَ وَجَاءُوا يَسْتَمِعُوْنَ الذِّكْرَ اپنے صحیفے لپیٹ لیتے ہیں اور ذکر و نصیحت سنتے ہیں۔ طرفه ۹۲۹ ۳۲۱۲ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ ۳۲۱۲ : علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ (بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا۔ (انہوں نے کہا: ) زہری سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ مَرَّ عُمَرُ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سعید بن مسیب سے فِي الْمَسْجِدِ وَحَسَّانُ يُنْشِدُ فَقَالَ روایت کی ۔ انہوں نے کہا: ہا: حضرت عمر مسجد میں سے گزرے رے اور حضرت حسان بن ثابت) وہاں شعر پڑھ كُنْتُ أُنْشِدُ فِيْهِ وَفِيْهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ رہے تھے اور انہوں نے کہا: میں اس (مسجد) میں اس مِنْكَ ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَالَ وقت شعر پڑھا کرتا تھا جبکہ اس (مسجد) میں آپ سے أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ أَسَمِعْتَ رَسُوْلَ اللهِ بهتر شخص (یعنی آنحضرت ا ) تشریف رکھتے تھے۔ صلى الله عروسه صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ أَجِبْ پھر حضرت حسان حضرت ابوہریرہ کی طرف متوجہ ہوئے عَنِّي اللَّهُمَّ أَيَدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ اور کہا: میں تم سے اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تم قَالَ نَعَمْ۔ اطرافه: ٤٥٣، ٦١٥٢۔ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے سنا: میری طرف سے جواب دو۔ اے اللہ ! اس کی روح القدس سے مدد فرما۔ حضرت ابوہریرہ نے کہا: ہاں۔