صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 36
صحيح البخاری جلد ۲ سم ۵۹ - كتاب بدء الخلق الْمُعَالَجَةِ وَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ فَارْجِعْ کرنے میں بہت ہی کوشش کی۔ آپ کی امت برداشت إِلَى رَبِّكَ فَسَلَّهُ فَرَجَعْتُ فَسَأَلْتُهُ نہیں کرے گی۔ اس لئے اپنے رب کے پاس واپس فَجَعَلَهَا أَرْبَعِيْنَ ثُمَّ مِثْلَهُ ثُمَّ ثَلَاثِينَ جائیں اور (کم کرنے کے لئے ) التماس کریں۔ چنانچہ میں واپس گیا اور میں نے اللہ تعالیٰ سے عرض کی تو اس ثُمَّ مِثْلَهُ فَجَعَلَ عِشْرِيْنَ ثُمَّ مِثْلَهُ نے اس کو چالیس کر دیا۔ پھر اس کے بعد موسیٰ نے پہلے فَجَعَلَ عَشْرًا فَأَتَيْتُ مُوسَى فَقَالَ کی طرح مجھے واپس بھجوایا اور اللہ تعالی نے نہیں کر دیں۔ مِثْلَهُ فَجَعَلَهَا خَمْسًا فَأَتَيْتُ مُوسَی پھر ایسا ہی کیا تو اس نے ہیں کر دیں۔ پھر ایسا ہی کیا تو فَقَالَ مَا صَنَعْتَ قُلْتُ جَعَلَهَا خَمْسًا دس کر دیں۔ پھر میں موسیٰ کے پاس آیا تو پھر انہوں نے فَقَالَ مِثْلَهُ قُلْتُ فَسَلَّمْتُ فَنُودِيَ وپے ہی تخفیف کرانے کے لئے کہا۔ تو اللہ تعالیٰ نے پانچ کر دیں۔ پھر میں موسیٰ کے پاس آیا۔ تو انہوں نے إِنِّي قَدْ أَمْضَيْتُ فَرِيضَتِي وَخَفَفْتُ پوچھا: تم نے کیا بنایا۔ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے ان کو عَنْ عِبَادِي وَأَجْزِي الْحَسَنَةَ عَشْرًا۔ پانچ کر دیا ہے۔ پھر انہوں نے اسی طرح کم کروانے وَقَالَ هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ کے لئے کہا۔ میں نے کہا: میں اچھی طرح قبول کر چکا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ ہوں اب نہیں جاتا) پھر یہ آواز آئی کہ میں نے اپنا النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي فريضہ نافذ کر دیا ہے اور اپنے بندوں سے بوجھ کو ہلکا کر دیا ہے۔ میں نیکی کا بدلہ دس گنا دوں گا۔ اور ہمام الْبَيْتِ الْمَعْمُورِ۔ نے قتادہ سے ، قتادہ نے حسن (بصری) سے ، حسن نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہ نے نبی سے صرف بیت المعمور کے متعلق ہی نقل کیا۔ صلى الله اطرافه ۳۳۹۳، ۳۴۳۰، ۳۸۸۷ ۳۲۰۸ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ۳۲۰۸ حسن بن ربیع نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنِ الْأَعْمَشِ ابو الاحوص (سلام بن سلیم ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ عَبْدُ اللهِ حَدَّثَنَا اعمش سے، اعمش نے زید بن وہب سے روایت کی کہ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حضرت عبداللہ بن مسعود ) نے کہا: رسول الله عالم عمدۃ القاری میں اس جگہ الفاظ سَلَّمْتُ بِخَيْرٍ ہیں ۔ (عمدۃ القاری جزء ۵ اصفحہ ۱۲۵) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔