صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 14 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 14

صحيح البخاری جلد ٦ ۱۴ ۵۹ - كتاب بدء الخلق بْنُ زَيْدٍ دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى الله نے ہشام سے، ہشام نے اپنے باپ سے یوں نقل عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ طرفه ٢٤٥٢ کیا۔ انہوں نے کہا: حضرت سعید بن زید نے مجھ سے کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اندر گیا۔ تشريح : مَا جَاءَ فِي سَبْعِ أَرَضِينَ: آیت خَلَقَ سَبْعَ سَمَوَاتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ (الطلاق (۳) سے سات زمینوں کا استدلال کر کے باب کا عنوان قائم کیا گیا ہے ۔ باب کے عنوان میں مندرجہ ذیل آیات کے حوالے ہیں: -1 اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَوَاتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ يَتَنَزَّلُ الْأَمْرُ بَيْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ * وَأَنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا ) (الطلاق: (۱۳) اللہ وہی ہے جس نے سات بلندیاں پیدا کی ہیں اور زمین زمین بھی انہی کی مانند ا مانند ان آسمانوں اور زمینوں کے درمیان اس کا حکم تدریجاً نازل ہوتا رہتا ہے تا تم جانو کہ اللہ ہر ایک چیز پر قادر ہے اور اپنے علم سے ہر شئے کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ - سورة الطور ميں وَالسَّقْفِ الْمَرْفُوعِ (الطور : (۵) کے الفاظ آئے ہیں۔ ان سے مراد السَّماء لیا گیا ہے۔ یعنی بلند آسمان - کیونکہ سورہ انبیاء میں آیا ہے : وَجَعَلْنَا السَّمَاءَ سَقْفًا مَّحْفُوظًا وَهُمْ عَنْ آيَاتِهَا مُعْرِضُونَ وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ كُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ (الأنبياء: ۳۳-۳۴) فرماتا ہے: ہم نے آسمان کو ایک محفوظ چھت بنایا ہے اور وہ اس کی آیات سے روگردان ہیں اور وہ وہی ہے جس نے رات اور دن اور سورج وچاند پیدا کئے ہیں۔ ہر ایک اپنے اپنے دائرہ محور میں تیر رہا ہے۔ اس آیت میں زمین کے بالمقابل او پر کی بلندی کو سقف محفوظ کے الفاظ دیئے گئے ہیں اور دوسری آیت میں سقف مرفوع کے الفاظ ہیں۔ جن سے یہ استدلال ہوتا ہے کہ سقف مرفوع سے مراد آسمان ہے۔ تیسری آیت جس کی طرف اشارہ کیا ہے یہ ہے : وَ أَنْتُمْ أَشَدُّ خَلْقًا أَمِ السَّمَاءُ بَنَاهَا رَفَعَ سَمُكَهَا فَسَوْهَا وَأَغْطَشَ لَيْلَهَا وَأَخْرَجَ ضُحَاهَا ، وَالْأَرْضَ بَعْدَ ذَلِكَ دَحَاهَا أَخْرَجَ مِنْهَا مَاءَ هَا وَمَرْعَاهَا ، وَالْجِبَالَ أَرْسَاهَا ۔ مَتَاعًا لَّكُمْ وَلأَنْعَامِكُمْ (النازعات : ۲۸ تا ۳۴) یعنی کیا تم خلقت میں زیادہ مضبوط ہو یا یہ فضائے بالا جو اس نے بطور بنیاد بنائی ہے اس کی بلندی اونچی کی اور اسے بے عیب بنایا اور اس کی رات تاریک بنائی اور اس کی دو پہر روشنی کر کے ظاہر کی اور اس کے علاوہ زمین کو بچھا دیا۔ اسی سے اس کا پانی وچارہ نکالا اور پہاڑوں کو مضبوطی سے گاڑ دیا۔ یہ سب کچھ تمہارے اور تمہارے چوپایوں کے لئے سامانِ زیست و نفع مندی ہے۔ پھر وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الْحُبُكِ (الذاریات: ۸) کی آیت کی طرف اشارہ کیا ہے۔ یعنی آسمان کی قسم جو اپنی خلقت میں تناسب وحسن رکھتا ہے۔ حُبک کے یہ معنی حضرت ابن عباس سے بسند ابن ابی حاتم نقل کئے گئے ہیں۔