صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 160
صحيح البخاری جلد ۲ ۱۶۰ ۲۰ - کتاب احاديث الأنبياء عَنْ زَائِدَةَ عَنْ مَيْسَرَةَ الْأَشْجَعِي انہوں نے زائدہ (بن قدامہ ) سے، زائدہ نے میسرہ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ اجھی سے ہمیں سے میسرہ نے ابو حازم سے، ابو حازم نے حضرت رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورتوں کے بارے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَوْصُوا میں میری وصیت پر کار بند ہو۔ بھلائی سے ان کے بِالنِّسَاءِ فَإِنَّ الْمَرْأَةَ خُلِقَتْ مِنْ ضِلَعِ ساتھ پیش آیا کرو۔ کیونکہ عورت کی پیدائش بھی پہلی ہی وَإِنَّ أَعْوَجَ شَيْءٍ فِي الضَّلَعِ أَعْلَاهُ کی ہے اور تم دیکھتے ہی ہو کہ پہلی میں سب سے زیادہ فَإِنْ ذَهَبْتَ تُقِيمُهُ كَسَرْتَهُ وَإِنْ تَرَكْتَهُ ٹیڑھا ا حصہ اوپر کا ہے۔ اگر تم اسے اسے سیدھا کرنے لگو تو اس لَمْ يَزَلْ أَعْرَجَ فَاسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ کو توڑ دو گے اور اگر اسے چھوڑ دو تو ٹیڑھا ہی رہے گا۔ اس لئے عورتوں کے متعلق میری وصیت پر عمل کرو۔ اطرافه: ٥١٨٤، ٥١٨٦ ٣٣٣٢: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ۳۳۳۲: عمر بن حفص نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ حَدَّثَنَا میرے باپ نے ہمیں بتایا کہ اعمش نے ہم سے بیان زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنَا کیا کہ زید بن وہب نے ہمیں بتایا ۔ حضرت عبداللہ (بن مسعود) نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا اور آپ سچے ہیں، آپ سے جو وَهُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوْقُ إِنَّ أَحَدَكُمْ وعدہ کیا گیا تھا وہ بھی سچا ہے کہ تم میں ایک اپنی ماں کے يُجْمَعُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا ثُمَّ پیٹ میں چالیس دن تک آہستہ آہستہ بنتا رہتا ہے۔ پھر وہ اتنی ہی مدت میں علقہ بن جاتا ہے۔ پھر اس يَكُونُ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ يَكُونُ کے بعد اتنی ہی مدت میں مضغہ بن جاتا ہے۔ پھر اللہ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ يَبْعَثُ اللهُ إِلَيْهِ اس کے پاس فرشتہ کو چار باتوں کا حکم دے کر بھیجتا ہے مَلَكًا بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ فَيُكْتَبُ عَمَلُهُ اور لکھا جاتا ہے جو وہ عمل کرے گا اور جس وقت تک وہ رہے گا اور جو اس کا رزق ہوگا اور یہ کہ وہ وَأَجَلُهُ وَرِزْقُهُ وَشَقِيٌّ أَمْ سَعِيدٌ ثُمَّ دنیا میں رہے گا اور بد بخت ہوگا یا نیک بخت۔ پھر اس میں روح پھونکی جاتی يُنْفَخُ فِيْهِ الرُّوْحُ فَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ ہے۔ اسی لئے ایک آدمی دوزخیوں کے کام کر رہا ہوتا بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ حَتَّى مَا يَكُوْنُ بَيْنَهُ ہے۔ یہاں تک کہ اس کے اور دوزخ کے درمیان