صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 206 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 206

صحيح البخاری جلد ۲ ۲۰۶ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء بَابٌ ۱۷ : قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى وَإِلَى ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَلِحًا اللہ تعالیٰ کا فرمانا: اور ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو ( بھیجا ) (الأعراف: ۷۴) (هود: ۶۲) وَقَوْلُهُ: كَذَّبَ أَصْحَبُ الْحِجْرِ اور حجر (کے رہنے والوں نے بھی جھٹلا دیا تھا۔ حجر ثمود (الحجر: (۸۱) الْحِجْرُ مَوْضِعُ ثَمُودَ کی جگہ کا نام ہے۔ اور آیت هَذِهِ أَنْعَامٌ وَحَرْثٌ وَأَمَّا حَرْثٌ حِجْرٌ (الأنعام: (۱۳۹) حَرَامٌ حِجْرٌ کے معنی ہیں کہ یہ جانور اور کھیتی حرام ہے اور ہر وَكُلُّ مَمْنُوْعٍ فَهُوَ حِجْرٌ وَمِنْهُ حِجْرٌ ممنوع شے حِجْر حجر کہلاتی ہے اور حِجْرًا مَّحْجُورًا مَّحْجُورُ۔ وَالْحِجْرُ كُلُّ بِنَاءٍ بَنَيْتَهُ (الفرقان : ۵۴) بھی انہی معانی میں ہے۔ اور حجر ہر اس عمارت کو کہتے ہیں جو تو بنائے اور زمین پر جو پتھر کی وَمَا حَجَرْتَ عَلَيْهِ مِنَ الْأَرْضِ فَهُوَ دیوار چنی جائے۔ اور اسی سے (کعبہ) بیت اللہ کی حِجْرٌ وَمِنْهُ سُمِّيَ حَطِيمُ الْبَيْتِ چھوڑی ہوئی دیوار حطیم حجر کہلاتی ہے۔ خطیم مخطوم حِجْرًا كَأَنَّهُ مُشْتَقٌ مِنْ مَّحْطُوْمٍ سے مشتق ہے۔ یعنی گرائی ہوئی یا توڑی ہوئی شئے ۔ مِثْلُ قَتِيلٍ مِنْ مَّقْتُولٍ وَيُقَالُ لِلْأُنْثَى جسے قتیل مقتول سے (بروزن فَعِيل جو حطم یعنی مِنَ الْخَيْلِ حِجْرٌ وَيُقَالُ لِلْعَقْلِ گرانے یا توڑنے سے صیغہ اسم مفعول ہے ) اور گھوڑی حِجْرٌ وَحِجَى وَأَمَّا حَجْرُ الْيَمَامَةِ کو بھی حجر کہتے ہیں اور معقل بھی حجر کہلاتی ہے کہ وہ بدی سے روکتی ہے۔ حجی کے معنی بھی عقل اور سمجھ کے فَهُوَ الْمَنْزِلُ۔ ہیں۔ (حَجَا يَحْجُو کے معنی بھی مَنَعَ يَمْنَعُ کے ہیں ) اور حَجْرُ الْيَمَامَةِ ایک پڑاؤ ہے۔ ۳۳۷۷: حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا ۳۳۷۷ حمیدی نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان سُفْيَانُ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ (بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا۔ ہشام بن عروہ نے ہم سے بخاری کے اکثر نسخوں میں یہ باب اس جگہ نہیں بلکہ باب فَلَمَّا جَاءَ آلَ لُوْطٍ الْمُرْسَلُونَ کے بعد ہے۔ لیکن امام ابن حجر کے نزدیک یہ باب یہاں باب قَوْلُ اللهِ تَعَالَى وَإِلَى عَادٍ أَخَاهُمُ هُودًا کے بعد ہے ۔ کیونکہ ترتیب میں اسے عاد کے ساتھ آنا چاہیے۔ اور ابوذر کے مطابق اصل نسخہ الگ الگ کاغذوں پر تھا، جلد کی شکل میں نہیں تھا۔ اس وجہ سے بعض کا تبوں سے غلطی ہوئی ہے۔ (دیکھئے فتح الباری جزء ۲ صفحہ ۴۶۰) ابواب کی یہ ترتیب فتح الباری کے مطابق ہے لیکن نمبر دیگر متداول نسخوں کے تنتج میں ہیں۔