صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 543 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 543

صحيح البخاری جلده ۵۴۳ ۵۸ - کتاب الجزية والموادعة قَدِمَتْ عَلَيَّ أُمِّي وَهِيَ مُشْرِكَةً فِي انہوں نے کہا: میری ماں اپنے باپ (حارث بن عَهْدِ قُرَيْشٍ إِذْ عَاهَدُوْا رَسُوْلَ اللهِ مدرک کے ساتھ اس حالت میں کہ وہ مشرکہ تھی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمُدَّتِهِمْ مَعَ میرے پاس اس وقت آئی جب قریش سے عہد تھا اور أَبِيْهَا فَاسْتَفْتَتْ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى الله معادی صلح تھی تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُوْلَ اللهِ إِنَّ سے فتوی دریافت کیا، کہا: یا رسول اللہ ! میری ماں أُمِّي قَدِمَتْ عَلَيَّ وَهِيَ رَاغِبَةٌ أَفَأَصِلُهَا میرے پاس اپنی خواہش سے آئی ہے کیا میں اس سے نیک سلوک کروں؟ فرمایا: ہاں۔اس سے قَالَ نَعَمْ صِلِيْهَا۔اطرافه: ۲٦٢٠، ۵۹۷۸، ۵۹۷۹ نیک سلوک کرو۔تشریح: یہ باب بطور فصل ہے جیسا کہ امام ابن حجر نے بھی اس بارے میں تصریح کی ہے۔اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ پیش کیا گیا ہے کہ آپ نے اپنے معاہدے کو نازک ترین حالات میں بھی خود پورا کیا اور صحابہ کرام سے بھی اس کی نگہداشت کرائی۔اس باب کے تحت دو روایتیں ہیں۔پہلی روایت ابو وائل کی ہے جو دو طریق سے مروی ہے۔صفین عرق اور شام کے درمیان ایک جگہ کا نام ہے جہاں حضرت علی اور حضرت معاویہ کا مقابلہ ہوا اور جب حضرت معاویہ کی فوج کے لوگوں کو یہ محسوس ہوا کہ ان کو شکست ہونے لگی ہے تو انہوں نے قرآن مجید کو اونچا کیا اور کہا کہ قرآن مجید کو حکم بنا کر فیصلہ کیا جائے۔چنانچہ اس پر جنگ بند ہوگئی۔بعض لوگوں کی طرف سے جنگ بندی پر اعتراضات ہوئے تو حضرت سہل بن حنیف صحابی نے ان سے کہا: اتَّهِمُوا أَنْفُسَكُمُ اپنی رائے ہی کو نادرست سمجھو۔کیونکہ اس سے قبل صلح حدیبیہ کے موقع پر حضرت عمر کو غلط فہمی پیدا ہوئی۔لیکن آخر واقعات نے بتا دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی استقامت اور ایفائے عہد کو برکت دی گئی اور آپ خطرہ سے محفوظ ہو گئے۔لوگ جس بات کو کمزوری اور ذلت پر محمول کر رہے تھے اللہ تعالیٰ نے اسی بات کو قوت و عزت کا باعث بنا دیا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر چھوٹی بڑی بات میں معاہدہ کی نگہداشت ملحوظ رکھی ہے۔حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ وہ اپنی والدہ سے حسن سلوک کرے اور یہ خیال نہ کرے کہ وہ مشرکہ ہے اور ایسی قوم سے ہے جو دشمن اور غدار ہے۔قریش نے معاہدہ توڑا اور وہی فتح مکہ اور آخر غلبہ کا سبب بنا۔اس تعلق میں مزید دیکھئے کتاب الصلح باب نیز کتاب الاعتصام باب مَا يُذْكَرُ مِنْ ذَمِّ الرَّأْي بَاب ۱۹ : الْمُصَالَحَةُ عَلَى ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ أَوْ وَقْتٍ مَّعْلُوْمٍ تین دن کے لئے یا ایک معین مدت کے لئے صلح کرنا ٣١٨٤: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ ۳۱۸۴ : احمد بن عثمان بن حکیم نے ہم سے بیان کیا