صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 536 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 536

صحیح البخاری جلده ۵۳۶ ۵۸ - كتاب الجزية والموادعة تیسری علامت یہ بتائی کہ مَوْتَانٌ يَأْخُذُ فِيكُمْ كَفَعَاصِ الْغَنَمِ - کہتے ہیں أَخَذَ الْإِقْعَاصُ وَهُوَ الْقَتْلُ مَكَانَهُ یعنی جہاں تھا وہیں مار ڈالا ۔ یعنی ایسی مری پڑے گی جیسی جانوروں میں پڑتی ہے۔ غزوہ عمواس میں ہلاکت خیز طاعون پھیلا تھا۔ فتح بیت المقدس ۶ ھ کے بعد وباء طاعون فلسطین و شام میں پھوٹی اور اسلامی لشکر بھی اس وباء سے محفوظ نہ رہا۔ چوتھی علامت جو بتائی گئی ہے یہ ہے : ثُمَّ اسْتِفَاضَةُ الْمَالِ یعنی مال کی کثرت۔ مال کی کثرت کا تعلق حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی خلافت سے ہے۔ اسی وجہ سے ان کا عہد اسلامی تاریخ میں سنہری زمانہ کے نام سے موسوم ہے۔ پانچویں ویں علامت یہ بتائی گئی ہے کہ ثُمَّ فِتْنَةٌ لَا يَبْقَى بَيْتٌ مِّنَ الْعَرَبِ۔ پھر ایسا فتنہ برپا ہوگا جس میں عرب کا ہر گھر مبتلا ہو جائے گا۔ یہ وہ خانہ جنگی کی آگ ہے جس کی ابتداء حضرت عثمان کے آخری زمانہ میں ہوئی اور ۴۱ھ میں حضرت امام حسن کے ہاتھوں ایک صلح کے ذریعہ سے مدہم ہوئی اور اس و وجہ سے یہ یہ سال سہ عام عام ا اصلح کے نام سے مشہور ہوا۔ چھٹی علامت یہ بتائی گئی ہے ثُمَّ هُدْنَةٌ ۔۔۔۔۔ بنو الا صفر سے مراد رومی ہیں ۔ بعض روایات میں غايَةٌ کی جگہ رَايَةٌ بھی آیا ہے۔ غاية سے مراد جھنڈا ہے اور جھنڈے کو غایہ اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ دستہ فوج کی آخری حد ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پیشگوئی کا تعلق ان جنگوں سے ہے جو مسلمانوں کو رومی حکومت سے کرنی پڑیں۔ ابو داؤد نے بھی مومل بن فضل سے نقل کی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں کہ ایک چھوٹی سی چھولداری تھی جس میں نبی کریم تھے۔ آپ نے حضرت عوف بن مالک سے فرمایا: اند آجاؤ ۔ انہوں نے عرض کی أُكُلِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ كُلُّكَ فَدَخَلْتُ آیا میں سارا اندر آجاؤں؟ فرمایا: سارا۔ چنانچہ میں اندر گیا ۔ یہ حصہ حضرت امام بخاری کی روایت میں نہیں۔ باب ١٦ : كَيْفَ يُنْبَذُ إِلَى أَهْلِ الْعَهْدِ عہد والوں سے معاہدہ کیونکر ختم کیا جائے وَقَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: وَإِمَّا تَخَافَنَ اور اللہ عزوجل کا فرمانا: اگر تو کسی قوم سے عہد شکنی کا ڈر مِنْ قَوْمٍ خِيَانَةً فَانْبِذْ إِلَيْهِمْ رکھتا ہو تو تو اس طرح ان کا عہد ختم کر کہ جس سے وہ یہ عَلَى سَوَاء (الأنفال: ٥٩) الْآيَةَ۔ سمجھ لیں کہ اب تم دونوں (فریق اپنی پابندیوں سے ) آزاد ہو۔ ۳۱۷۷ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا ۳۱۷۷ : ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے زہری سے روایت کی کہ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ بَعَثَنِي حميد بن عبد الرحمن نے ہمیں بتایا کہ حضرت ابو ہریرہ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِيْمَنْ يُؤَذِّنُ نے کہا : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے ان لوگوں (سنن ابی داود، كتاب الأدب، باب ماجاء في المزاح)