صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 533
صحيح البخاري۔جلده تشریح ۵۳۳ ۵۸ - کتاب الجزية والموادعة فَضْلُ الْوَفَاءِ بِالْعَهْدِ: سابقہ ابواب میں ذمیوں وغیرہ کی طرف سے معاہدہ کی نگہداشت نہ رکھنے کا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے معاہدات کی غایت درجہ نگہداشت رکھنے کا ذکر ہے اور اس باب میں آپ کی تعلیم اور ہدایات بیان کر کے آپ کی ممتاز شانِ رسالت نمایاں کی گئی ہے۔غیر نبی بھی وفادار ہو سکتا ہے لیکن ایفائے عہد کا عظیم خلق مخالف حالات میں ہی ظاہر ہوتا ہے۔اس تعلق میں تشریح روایت نمبرے بھی دیکھئے۔اس روایت میں ابوسفیان نے تسلیم کیا ہے۔الْحَرْبُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ سِجَالٌ - لڑائی میں کبھی ان کا پلہ بھاری ہوتا ہے اور کبھی ہمارا۔چنانچہ صحابہ کرام واقعہ حدیبیہ میں کفار مکہ سے نبرد آزمائی کے لئے بے قرار تھے۔مگر آنحضرت علی نے انہیں قابو میں رکھا۔پس صلح حدیبیہ کی کمزوری کے نتیجہ میں ہرگز نہ تھی۔بلکہ علی بصیرت اور دور رس نتائج کا احاطہ کرتے ہوئے منشاء الہی کے تحت عمل میں آئی۔جیسا کہ بعد کے واقعات نے حقیقت کا انکشاف کیا۔تفصیل کے لئے کتاب الشروط باب ۱۵ بھی دیکھئے۔واقعہ حدیبیہ سے یہ استدلال کرنا کہ کمزوری کی حالت اور اندیشہ استیصال ہو تو مصالحت کرنی چاہیے، سرا سر غلط استدلال ہے۔اسلامی تعلیم اخلاق فاضلہ اور خصائل حمیدہ پر مبنی ہے۔بَاب ١٤ : هَلْ يُعْفَى عَنِ الدِّمِّيِّ إِذَا سَحَرَ کیا ذمی سے اگر وہ جادو کرے در گزر کیا جائے صُنِعَ لَهُ ذَلِكَ فَلَمْ يَقْتُلْ مَنْ صَنَعَهُ وَكَانَ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ۔وَقَالَ ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنِ اور ابن وہب نے کہا: یونس نے ابن شہاب سے ابْنِ شِهَابٍ سُئِلَ أَعَلَى مَنْ سَحَرَ روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ ان سے پوچھا گیا: مِنْ أَهْلِ الْعَهْدِ قَتْلُ قَالَ بَلَغَنَا أَنَّ کیا وہ شخص جو جادو کرے اور وہ معاہدین میں سے ہو رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ قتل کر دیا جائے ؟ انہوں نے کہا: ہمیں یہ خبر پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ (جادو) کیا گیا تھا اور آپ نے اس شخص کو قتل نہیں کیا جس نے جادو کیا تھا اور وہ اہل کتاب میں سے تھا۔۳۱۷٥ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى :۳۱۷۵ محمد بن شنی نے مجھ سے بیان کیا کہ یکی حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا هِشَامٌ قَالَ (قطان) نے ہمیں بتایا۔ہشام نے ہم سے بیان کیا۔حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ انہوں نے کہا: میرے باپ نے مجھے بتایا کہ حضرت صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُحِرَ حَتَّى عائشہؓ سے مروی ہے : نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا گیا۔كَانَ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ صَنَعَ شَيْئًا یہاں تک کہ آپ کو یہ خیال ہوتا کہ آپ نے کوئی